تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ التكوير (81) — آیت 19

اِنَّہٗ لَقَوۡلُ رَسُوۡلٍ کَرِیۡمٍ ﴿ۙ۱۹﴾
بے شک یہ یقینا ایک ایسے پیغام پہنچانے والے کاقول ہے جو بہت معزز ہے۔ En
کہ بےشک یہ (قرآن) فرشتہٴ عالی مقام کی زبان کا پیغام ہے
En
یقیناً یہ ایک بزرگ رسول کا کہا ہوا ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

یہ بڑی بڑی نشانیاں جن کی اللہ تعالیٰ نے قسم کھائی ہے، قرآن کی سند کی قوت، اس کی جلالت اور ہر شیطان مردود سے اس کی حفاظت کی بنا پر ہے۔اس لیے فرمایا ﴿ اِنَّهٗ لَقَوْلُ رَسُوْلٍ كَرِیْمٍ بے شک یہ معزز فرشتے کا قول ہے۔ اور وہ ہیں جبریل علیہ السلام جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے اسے لے کر نازل ہوئے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَاِنَّهٗ لَتَنْزِیْلُ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَؕ۰۰ نَزَلَ بِهِ الرُّوْحُ الْاَمِیْنُۙ۰۰ عَلٰى قَلْبِكَ لِتَكُوْنَ مِنَ الْمُنْذِرِیْنَ (الشعراء: 26؍192-194) یہ قرآن رب کائنات کی طرف سے نازل کردہ ہے، اسے روح الامین لے کر نازل ہوئے آپ کے قلب پر تاکہ آپ تنبیہ کرنے والوں میں سے ہو جائیں۔اللہ تعالیٰ نے اسے اس کے اچھے اخلاق اور قابل تعریف خصائل کی وجہ سے﴿ کَرِیْمٌ کی صفت سے موصوف کیا ہے کیونکہ یہ فرشتوں میں سب سے افضل اور اپنے رب کے ہاں سب سے بڑے رتبے کا حامل ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

وهذه آياتٌ عظامٌ أقسم الله عليها لقوَّة سند القرآن وجلالته وحفظه من كلِّ شيطانٍ رجيم، فقال: {إنَّه لَقولُ رسولٍ كريم}: وهو جبريل عليه السلام، نزل به من الله تعالى؛ كما قال تعالى: {وإنَّه لَتنزيل ربِّ العالمين. نَزَلَ به الرُّوحُ الأمينُ. على قلبكَ لتكونَ من المُنذِرينَ}. ووصفه الله بالكريم لكرم أخلاقِهِ و [كثرة] خصالِهِ الحميدة؛ فإنَّه أفضل الملائكة وأعظمهم رتبةً عند ربِّه.