تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿مُّطَاعٍثَمَّ﴾ یعنی ملأ اعلیٰ میں جبریل علیہ السلام کی اطاعت کی جاتی ہے،ان کے پاس مقرب فرشتوں کی ایک جماعت ہے جن پر ان کا حکم نافذ ہوتا ہے اور ان کی رائے کی اطاعت کی جاتی ہے ﴿ اَمِیْنٍ﴾ یعنی امانت دار ہیں، ان کو جو حکم دیا جاتا ہے، اس کی تعمیل کرتے ہیں اس میں کمی بیشی نہیں کرتے، اور جو حدود ان کے لیے مقرر کی گئی ہیں، ان سے تجاوز نہیں کرتے۔
یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کے ہاں قرآن کریم کے شرف پر دلالت کرتا ہے، کیونکہ اس کے ساتھ ایک عالی مرتبہ فرشتے کو بھیجا، جو ان صفات کاملہ سے موصوف ہے، عام عادت یہ ہے کہ بادشاہ کسی عالی مرتبہ ہستی کو اہم ترین مہم اور بلند مرتبہ پیغام ہی کے لیے بھیجا کرتے ہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{مطاع ثَمَّ}؛ أي: جبريل مطاعٌ في الملأ الأعلى؛ لأنَّه من الملائكة المقرَّبين، نافذ فيهم أمرُه، مطاعٌ رأيه، {أمينٍ}؛ أي: ذو أمانة وقيام بما أُمِرَ به، لا يزيد ولا ينقص ولا يتعدَّى ما حُدَّ له، وهذا كلُّه يدلُّ على شرف القرآن عند الله تعالى: فإنَّه بعث به هذا الملك الكريم الموصوف بتلك الصفات الكاملة، والعادةُ أنَّ الملوك لا ترسل الكريم عليها إلاَّ في أهمِّ المهمَّات وأشرف الرسائل.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔