تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الأنفال (8) — آیت 69

فَکُلُوۡا مِمَّا غَنِمۡتُمۡ حَلٰلًا طَیِّبًا ۫ۖ وَّ اتَّقُوا اللّٰہَ ؕ اِنَّ اللّٰہَ غَفُوۡرٌ رَّحِیۡمٌ ﴿٪۶۹﴾
سو اس میں سے کھائو جو تم نے غنیمت حاصل کی، اس حال میں کہ حلال، طیب ہے اور اللہ سے ڈرو۔ بے شک اللہ بے حد بخشنے والا، نہایت مہربان ہے۔ En
تو جو مالِ غنیمت تمہیں ملا ہے اسے کھاؤ (کہ وہ تمہارے لیے) حلال طیب رہے اور خدا سے ڈرتے رہو۔ بےشک خدا بخشنے والا مہربان ہے
En
پس جو کچھ حلال اور پاکیزه غنیمت تم نے حاصل کی ہے، خوب کھاؤ پیو اور اللہ سے ڈرتے رہو، یقیناً اللہ غفور ورحیم ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ فَكُلُوْا مِمَّا غَنِمْتُمْ حَلٰ٘لًا طَیِّبًا پس کھاؤ تم جو تم کو غنیمت میں ملا، حلال پاکیزہ یہ اس امت پر اللہ تعالیٰ کا فضل و کرم ہے کہ اس نے اس کے لیے غنائم کو حلال کر دیا حالانکہ اس سے قبل کسی امت پر غنائم کو حلال نہیں کیا گیا تھا۔ ﴿ وَّاتَّقُوا اللّٰهَ اور اللہ سے ڈرتے رہو۔ یعنی اپنے تمام معاملات میں اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو اور اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا شکر ادا کرتے رہو۔ ﴿ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌؔ بے شک اللہ بخشنے والا ہے۔ جو کوئی توبہ کر کے اس کی طرف لوٹتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے تمام گناہ بخش دیتا ہے اور جس نے شرک نہیں کیا، اللہ تعالیٰ اس کے تمام گناہ بخش دے گا۔ (اگر چاہے گا) ﴿ رَّحِیْمٌ اللہ تعالیٰ تم پر بہت مہربان ہے کہ اس نے تم پر مال غنیمت کو مباح کیا اور اس کو تمھارے لیے حلال اور پاک قرار دیا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{فكلوا مما غنمتُم حلالاً طيِّباً}: وهذا من لطفه تعالى بهذه الأمة أن أحلَّ لها الغنائم ولم تحلَّ لأمة قبلها، {واتَّقوا الله}: في جميع أموركم، ولازموها شكراً لنعم الله عليكم. {إنَّ الله غفورٌ}: يغفر لمن تاب إليه جميع الذنوب، ويغفر لمن لم يشركْ به شيئاً جميع المعاصي، {رحيمٌ}: بكم حيث أباح لكم الغنائم وجعلها حلالاً طيباً.