تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿ فَكُلُوْامِمَّاغَنِمْتُمْحَلٰ٘لًاطَیِّبًا﴾”پس کھاؤ تم جو تم کو غنیمت میں ملا، حلال پاکیزہ“ یہ اس امت پر اللہ تعالیٰ کا فضل و کرم ہے کہ اس نے اس کے لیے غنائم کو حلال کر دیا حالانکہ اس سے قبل کسی امت پر غنائم کو حلال نہیں کیا گیا تھا۔ ﴿ وَّاتَّقُوااللّٰهَ ﴾”اور اللہ سے ڈرتے رہو۔“ یعنی اپنے تمام معاملات میں اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو اور اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا شکر ادا کرتے رہو۔ ﴿ اِنَّاللّٰهَغَفُوْرٌؔ ﴾”بے شک اللہ بخشنے والا ہے۔“ جو کوئی توبہ کر کے اس کی طرف لوٹتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے تمام گناہ بخش دیتا ہے اور جس نے شرک نہیں کیا، اللہ تعالیٰ اس کے تمام گناہ بخش دے گا۔ (اگر چاہے گا) ﴿ رَّحِیْمٌ ﴾ اللہ تعالیٰ تم پر بہت مہربان ہے کہ اس نے تم پر مال غنیمت کو مباح کیا اور اس کو تمھارے لیے حلال اور پاک قرار دیا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{فكلوا مما غنمتُم حلالاً طيِّباً}: وهذا من لطفه تعالى بهذه الأمة أن أحلَّ لها الغنائم ولم تحلَّ لأمة قبلها، {واتَّقوا الله}: في جميع أموركم، ولازموها شكراً لنعم الله عليكم. {إنَّ الله غفورٌ}: يغفر لمن تاب إليه جميع الذنوب، ويغفر لمن لم يشركْ به شيئاً جميع المعاصي، {رحيمٌ}: بكم حيث أباح لكم الغنائم وجعلها حلالاً طيباً.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔