تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الأنفال (8) — آیت 68

لَوۡ لَا کِتٰبٌ مِّنَ اللّٰہِ سَبَقَ لَمَسَّکُمۡ فِیۡمَاۤ اَخَذۡتُمۡ عَذَابٌ عَظِیۡمٌ ﴿۶۸﴾
اگر اللہ کی طرف سے لکھی ہوئی بات نہ ہوتی، جو پہلے طے ہو چکی تو جو کچھ تم نے لیا اس کی وجہ سے تمھیں بہت بڑا عذاب پہنچتا۔ En
اگر خدا کا حکم پہلے نہ ہوچکا ہوتا تو جو (فدیہ) تم نے لیا ہے اس کے بدلے تم پر بڑا عذاب نازل ہوتا
En
اگر پہلے ہی سے اللہ کی طرف سے بات لکھی ہوئی نہ ہوتی تو جو کچھ تم نے لیا ہے اس کے بارے میں تمہیں کوئی بڑی سزا ہوتی En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ لَوْلَا كِتٰبٌ مِّنَ اللّٰهِ سَبَقَ اگر اللہ کا حکم پہلے نہ ہوچکا ہوتا۔ یعنی اللہ تعالیٰ کی قضا و قدر مقرر نہ ہو چکی ہوتی اور تمھارے لیے غنائم کو حلال نہ کر دیا گیا ہوتا اور اے امت مسلمہ ... تم سے عذاب کو نہ اٹھا لیا گیا ہوتا ﴿ لَمَسَّكُمْ فِیْمَاۤ اَخَذْتُمْ عَذَابٌ عَظِیْمٌ تو تم نے جو فدیہ حاصل کیا ہے اس کی پاداش میں تمھیں عذاب عظیم آلیتا اور حدیث میں آتا ہے اگر بدر کے روز (قیدیوں کے فدیہ کے معاملے میں) عذاب نازل ہوتا تو عمر رضی اللہ عنہ کے سوا کوئی نہ بچتا۔ (تفسیر الدر المنثور: 3؍366)
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{لولا كتابٌ من الله سَبَقَ}: به القضاء والقدر؛ أنَّه قد أحلَّ لكم الغنائم، وأنَّ الله رفع عنكم أيُّها الأمة العذاب، {لمسَّكم فيما أخذتم عذابٌ عظيمٌ}. وفي الحديث: «لو نزل عذابٌ يوم بدر؛ ما نجا منه إلا عمر».