تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿ لَوْلَاكِتٰبٌمِّنَاللّٰهِسَبَقَ ﴾”اگر اللہ کا حکم پہلے نہ ہوچکا ہوتا۔“ یعنی اللہ تعالیٰ کی قضا و قدر مقرر نہ ہو چکی ہوتی اور تمھارے لیے غنائم کو حلال نہ کر دیا گیا ہوتا اور اے امت مسلمہ ... تم سے عذاب کو نہ اٹھا لیا گیا ہوتا ﴿ لَمَسَّكُمْفِیْمَاۤاَخَذْتُمْعَذَابٌعَظِیْمٌ ﴾”تو تم نے جو فدیہ حاصل کیا ہے اس کی پاداش میں تمھیں عذاب عظیم آلیتا“ اور حدیث میں آتا ہے ”اگر بدر کے روز (قیدیوں کے فدیہ کے معاملے میں) عذاب نازل ہوتا تو عمر رضی اللہ عنہ کے سوا کوئی نہ بچتا۔ (تفسیر الدر المنثور: 3؍366)
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{لولا كتابٌ من الله سَبَقَ}: به القضاء والقدر؛ أنَّه قد أحلَّ لكم الغنائم، وأنَّ الله رفع عنكم أيُّها الأمة العذاب، {لمسَّكم فيما أخذتم عذابٌ عظيمٌ}. وفي الحديث: «لو نزل عذابٌ يوم بدر؛ ما نجا منه إلا عمر».
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔