(آیت 69){فَكُلُوْامِمَّاغَنِمْتُمْحَلٰلًاطَيِّبًا …:} اللہ تعالیٰ کے ناراضگی کے اظہار سے یہ خیال پیدا ہوتا تھا کہ فدیے کا مال لینا اللہ تعالیٰ کو پسند نہیں، اللہ تعالیٰ نے اس شبے کو دور فرمایا کہ یہ بھی مال غنیمت ہے اور اس امت کے لیے حلال اور طیب ہے، سو اسے کسی شک و شبہ کے بغیر کھاؤ۔ اس سے {”لَوْلَاكِتٰبٌمِّنَاللّٰهِ“} کی تفسیر ” اس امت کے لیے غنیمت حلال ہونے“ کے قول کو تقویت ملتی ہے۔ {”وَاتَّقُوااللّٰهَ“} البتہ یہ اصل مقصود نہیں، بلکہ اصل مقصود اللہ کا تقویٰ ہے، اسے اختیار کرو، یقینا اللہ تعالیٰ بے حد بخشنے والا نہایت مہربان ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
69۔ 1 اس میں مال غنیمت کی حلت و پاکیزگی کو بیان کر کے فدیے کا جواز بیان فرما دیا گیا ہے۔ جس سے اس امر کی تائید ہوتی ہے کہ ' لکھی ہوئی بات ' سے مراد شاید یہی حلت غنائم ہے
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
69۔ جو کچھ تم نے بطور غنیمت بطور غنیمت حاصل کیا ہے اسے تم کھا سکتے ہو۔ [71] یہ حلال اور پاکیزہ ہے اور اللہ سے ڈرتے رہو۔ اللہ یقیناً معاف کرنے والا اور رحم کرنے والا ہے
[71] فدیہ کا مال حلال و طیب ہے:۔
جب قیدیوں کو بروقت میدان جنگ میں قتل نہ کر دینے اور گرفتار کر کے ان کے عوض فدیہ لینے کی بنا پر عتاب نازل ہوا تو صحابہ کرامؓ کو شک پیدا ہوا کہ یہ مال جو بطور فدیہ لیا گیا ہے شاید حلال و طیب نہ رہا ہو، اسی شبہ کو دور کرنے کے لیے یہ آیت نازل ہوئی۔ کیونکہ فدیہ کی رقوم بھی اموال غنائم میں شامل تھیں اور فرمایا کہ یہ مال اللہ کا عطیہ ہے اسے بطیب خاطر استعمال میں لاؤ۔ البتہ جہاد کے سلسلہ میں دنیا کے مال پر نظر رکھنا اور اسے اس قدر اہمیت نہ دینا چاہیے کہ جہاد کا بلند تر مقصد ثانوی حیثیت اختیار کر جائے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿ فَكُلُوْامِمَّاغَنِمْتُمْحَلٰ٘لًاطَیِّبًا﴾”پس کھاؤ تم جو تم کو غنیمت میں ملا، حلال پاکیزہ“ یہ اس امت پر اللہ تعالیٰ کا فضل و کرم ہے کہ اس نے اس کے لیے غنائم کو حلال کر دیا حالانکہ اس سے قبل کسی امت پر غنائم کو حلال نہیں کیا گیا تھا۔ ﴿ وَّاتَّقُوااللّٰهَ ﴾”اور اللہ سے ڈرتے رہو۔“ یعنی اپنے تمام معاملات میں اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو اور اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا شکر ادا کرتے رہو۔ ﴿ اِنَّاللّٰهَغَفُوْرٌؔ ﴾”بے شک اللہ بخشنے والا ہے۔“ جو کوئی توبہ کر کے اس کی طرف لوٹتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے تمام گناہ بخش دیتا ہے اور جس نے شرک نہیں کیا، اللہ تعالیٰ اس کے تمام گناہ بخش دے گا۔ (اگر چاہے گا) ﴿ رَّحِیْمٌ ﴾ اللہ تعالیٰ تم پر بہت مہربان ہے کہ اس نے تم پر مال غنیمت کو مباح کیا اور اس کو تمھارے لیے حلال اور پاک قرار دیا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{فكلوا مما غنمتُم حلالاً طيِّباً}: وهذا من لطفه تعالى بهذه الأمة أن أحلَّ لها الغنائم ولم تحلَّ لأمة قبلها، {واتَّقوا الله}: في جميع أموركم، ولازموها شكراً لنعم الله عليكم. {إنَّ الله غفورٌ}: يغفر لمن تاب إليه جميع الذنوب، ويغفر لمن لم يشركْ به شيئاً جميع المعاصي، {رحيمٌ}: بكم حيث أباح لكم الغنائم وجعلها حلالاً طيباً.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔