تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الأنفال (8) — آیت 70

یٰۤاَیُّہَا النَّبِیُّ قُلۡ لِّمَنۡ فِیۡۤ اَیۡدِیۡکُمۡ مِّنَ الۡاَسۡرٰۤی ۙ اِنۡ یَّعۡلَمِ اللّٰہُ فِیۡ قُلُوۡبِکُمۡ خَیۡرًا یُّؤۡتِکُمۡ خَیۡرًا مِّمَّاۤ اُخِذَ مِنۡکُمۡ وَ یَغۡفِرۡ لَکُمۡ ؕ وَ اللّٰہُ غَفُوۡرٌ رَّحِیۡمٌ ﴿۷۰﴾
اے نبی! تمھارے ہاتھ میں جو قیدی ہیں ان سے کہہ دے اگر اللہ تمھارے دلوں میں کوئی بھلائی معلوم کرے گا تو تمھیں اس سے بہتر دے دے گا جو تم سے لیا گیا اور تمھیں بخش دے گا اور اللہ بے حد بخشنے والا، نہایت رحم والا ہے۔ En
اے پیغمبر جو قیدی تمہارے ہاتھ میں (گرفتار) ہیں ان سے کہہ دو کہ اگر خدا تمہارے دلوں میں نیکی معلوم کرے گا تو جو (مال) تم سے چھن گیا ہے اس سے بہتر تمہیں عنایت فرمائے گا اور تمہارے گناہ بھی معاف کر دے گا اور خدا بخشنے والا مہربان ہے
En
اے نبی! اپنے ہاتھ تلے کے قیدیوں سے کہہ دو کہ اگر اللہ تعالیٰ تمہارے دلوں میں نیک نیتی دیکھے گا تو جو کچھ تم سے لیا گیا ہے اس سے بہتر تمہیں دے گا اور پھر گناه بھی معاف فرمائے گا اور اللہ بخشنے واﻻ مہربان ہے ہی En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

یہ آیت کریمہ اسیران بدر کے بارے میں نازل ہوئی ہے اور ان قیدیوں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا حضرت عباس بھی شامل تھے۔ جب رہائی کے عوض ان سے فدیہ کا مطالبہ کیا گیا تو انھوں نے عرض کیا کہ انھوں نے اس سے قبل اسلام قبول کیا ہوا تھا۔ مگر مسلمانوں نے ان سے فدیہ کو ساقط نہ کیا۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کی اور ان لوگوں کی دل جوئی کی خاطر یہ آیت کریمہ نازل فرمائی جو اس قسم کی صورت حال سے دوچار ہوں۔ فرمایا: ﴿ یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ قُ٘لْ لِّ٘مَنْ فِیْۤ اَیْدِیْكُمْ مِّنَ الْاَسْرٰۤى١ۙ اِنْ یَّعْلَمِ اللّٰهُ فِیْ قُ٘لُوْبِكُمْ خَیْرًا یُّؤْتِكُمْ خَیْرًا مِّؔمَّاۤ اُخِذَ مِنْكُمْ اے نبی ان سے کہہ دو! جو تمھارے ہاتھوں میں قیدی ہیں، اگر اللہ تمھارے دلوں میں کچھ نیکی جانے گا تو تمھیں اس سے بہتر دے گا جو تم سے لیا گیا ہے یعنی جو مال تم سے لیا گیا ہے اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم سے اس کے بدلے خیر کثیر عطا کرے گا۔ ﴿ وَیَغْفِرْ لَكُمْ اور (اللہ تعالیٰ) تمھارے گناہ بخش دے گا اور تمھیں جنت میں داخل کرے گا۔ ﴿ وَاللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ اور اللہ بہت بخشنے والا، نہایت رحم کرنے والا ہے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے حضرت عباس رضی اللہ عنہ سے اپنا وعدہ پورا کر دیا، اس کے بعد انھیں بہت زیادہ مال حاصل ہوا۔ حتیٰ کہ ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بہت زیادہ مال آیا، حضرت عباس رضی اللہ عنہ آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ نے ان کو حکم دیا کہ وہ اپنے کپڑے میں جتنا مال اٹھا سکتے ہیں لے لیں۔ انھوں نے اتنا مال لیا کہ ان سے اٹھایا نہیں جا رہا تھا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

وهذه نزلت في أسارى يوم بدر ، وكان من جملتهم العباس عمُّ رسول الله - صلى الله عليه وسلم -، فلما طلب منه الفداء؛ ادَّعى أنه مسلم قبل ذلك، فلم يسقِطوا عنه الفداء، فأنزل الله تعالى جبراً لخاطره ومَنْ كان على مثل حالِهِ: {يا أيُّها النبيُّ قلْ لِمَن في أيديكم من الأسرى إن يعلم اللهُ في قلوبكم خيراً يؤتِكُم خيراً ممَّا أُخِذَ منكم}؛ أي: من المال، بأن ييسِّر لكم من فضله خيراً كثيراً مما أخذ منكم، {ويَغْفِرْ لكم}: ذنوبكم ويدخلكم الجنة. {والله غفورٌ رحيمٌ}: وقد أنجز الله وعده للعباس وغيره، فحصل له بعد ذلك من المال شيءٌ كثيرٌ، حتى إنه مرَّة لما قدم على النبي - صلى الله عليه وسلم - مال كثير؛ أتاه العباس، فأمره أن يأخذ منه بثوبه ما يطيق حملَه، فأخذ منه ما كاد أن يعجزَ عن حمله.