تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الأنفال (8) — آیت 35

وَ مَا کَانَ صَلَاتُہُمۡ عِنۡدَ الۡبَیۡتِ اِلَّا مُکَآءً وَّ تَصۡدِیَۃً ؕ فَذُوۡقُوا الۡعَذَابَ بِمَا کُنۡتُمۡ تَکۡفُرُوۡنَ ﴿۳۵﴾
اور ان کی نماز اس گھر کے پاس سیٹیاں بجانے اور تالیاں بجانے کے سوا کبھی کچھ نہیں ہوتی۔ سو عذاب چکھو اس وجہ سے جو تم کفر کرتے تھے۔ En
اور ان لوگوں کی نماز خانہٴ کعبہ کے پاس سیٹیاں اور تالیاں بجانے کے سوا کچھ نہ تھی۔ تو تم جو کفر کرتے تھے اب اس کے بدلے عذاب (کا مزہ) چکھو
En
اور ان کی نماز کعبہ کے پاس صرف یہ تھی سیٹیاں بجانا اور تالیاں بجانا۔ سو اپنے کفر کے سبب اس عذاب کا مزه چکھو En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اللہ تبارک و تعالیٰ نے مسجد حرام صرف اس لیے بنائی ہے کہ اس میں اس کے دین کو قائم کیا جائے اور اس میں خالص اسی کی عبادت کی جائے۔ پس اہل ایمان ہی وہ لوگ ہیں جنھوں نے اللہ تعالیٰ کے اس حکم کی تعمیل کی اور رہے یہ مشرکین جنھوں نے لوگوں کو مسجد حرام سے روکا تو ان کی نماز، جو کہ سب سے بڑی عبادت ہے، ﴿ اِلَّا مُكَآءً وَّتَصْدِیَةً سیٹیوں اور تالیوں کے سوا کچھ بھی نہیں جو کہ جہلا اور کم عقل لوگوں کا فعل ہے جن کے دل اپنے رب کی تعظیم سے خالی ہوتے ہیں، جو اپنے رب کے حقوق کی معرفت سے تہی دست ہوتے ہیں اور ان کے دل میں افضل ترین خطۂ زمین کا کوئی احترام نہیں ہوتا۔ جب ان کی نماز کا یہ حال ہے تو ان کی بقیہ عبادات کا کیا حال ہوگا؟
پس ان میں کون سی چیز ایسی ہے جس کی بنا پر وہ اپنے آپ کو ان مومنوں سے زیادہ بیت اللہ کا مستحق سمجھتے ہیں، جو اپنی نمازوں میں خشوع و خضوع اختیار کرتے ہیں، جو لغو باتوں سے اعراض کرتے ہیں اور ان میں وہ تمام اوصاف حمیدہ اور افعال سدیدہ موجود ہیں جو ان کے اللہ نے بیان فرمائے ہیں۔
یقینا اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو اپنے محترم گھر کا وارث بنایا اور اس پر ان کو قدرت عطا کی... اور پھر ان کو اس پر قدرت عطا کرنے کے بعد فرمایا: ﴿یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِنَّمَا الْ٘مُشْرِكُوْنَ نَجَسٌ فَلَا یَقْرَبُوا الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ بَعْدَ عَامِهِمْ هٰؔذَا (التوبۃ: 9؍28) اے مومنو! مشرکین تو ناپاک ہیں، اس لیے وہ اس سال کے بعد مسجد حرام کے قریب بھی نہ جائیں۔اور یہاں فرمایا: ﴿ فَذُوْقُوا الْعَذَابَ بِمَا كُنْتُمْ تَكْفُرُوْنَ اپنے کفر کی پاداش میں عذاب کا مزا چکھو۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

يعني: أن الله تعالى إنما جعل بيته الحرام ليقامَ فيه دينُه وتُخْلَصَ له فيه العبادة؛ فالمؤمنون هم الذين قاموا بهذا الأمر، وأما هؤلاء المشركون الذين يصدُّون عنه؛ فما كان صلاتُهم فيه، التي هي أكبر أنواع العبادات {إلَّا مُكاءً وتصديةً}؛ أي: صفيراً وتصفيقاً؛ فعلَ الجهلة الأغبياء، الذين ليس في قلوبهم تعظيمٌ لربِّهم ولا معرفة بحقوقه ولا احترام لأفضل البقاع وأشرفها؛ فإذا كانت هذه صلاتهم فيه؛ فكيف ببقيَّة العبادات؟! فبأيِّ شيء كانوا أولى بهذا البيت من المؤمنين، الذين هم في صلاتهم خاشعون، والذين هم عن اللغو معرضون؟! ... إلى آخر ما وصفهم الله به من الصفات الحميدة والأفعال السديدة لا جرم أورثهم الله بيته الحرام ومكَّنهم منه، وقال [لهم] بعدما مكَّن لهم فيه: {يا أيُّها الذين آمنوا إنَّما المشركون نَجَسٌ فلا يَقْرَبوا المسجدَ الحرامَ بعد عامهم هذا}، وقال هنا: {فذوقوا العذابَ بما كنتُم تكفرون}.