بے شک جن لوگوں نے کفر کیا وہ اپنے مال خرچ کرتے ہیں، تاکہ اللہ کے راستے سے روکیں۔ پس عنقریب وہ انھیں خرچ کریں گے، پھر وہ ان پر افسوس کا باعث ہوں گے، پھر وہ مغلوب ہوں گے اور جن لوگوں نے کفر کیا وہ جہنم کی طرف اکٹھے کیے جائیں گے۔
En
جو لوگ کافر ہیں اپنا مال خرچ کرتے ہیں کہ (لوگوں کو) خدا کے رستے سے روکیں۔ سو ابھی اور خرچ کریں گے مگر آخر وہ (خرچ کرنا) ان کے لیے (موجب) افسوس ہوگا اور وہ مغلوب ہوجائیں گے۔ اور کافر لوگ دوزخ کی طرف ہانکے جائیں گے
بلاشک یہ کافر لوگ اپنے مالوں کو اس لئے خرچ کر رہے ہیں کہ اللہ کی راه سے روکیں سو یہ لوگ تو اپنے مالوں کو خرچ کرتے ہی رہیں گے، پھر وه مال ان کے حق میں باعﺚ حسرت ہو جائیں گے۔ پھر مغلوب ہو جائیں گے اور کافر لوگوں کو دوزخ کی طرف جمع کیا جائے گا
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
اللہ تبارک و تعالیٰ مشرکین کی عداوت، ان کے مکر و فریب، اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ ان کی مخالفت، اللہ کے چراغ کو بجھانے کے لیے ان کی کوششوں اور اللہ تعالیٰ کے کلمہ کو نیچا دکھانے کے لیے ان کی تگ و دو کا ذکر کرتے ہوئے واضح کرتا ہے کہ ان کے مکر و فریب اور ان کی سازشوں کا وبال انھی پر پڑے گا۔ مکر و فریب کی برائی صرف فریب کاروں کو اپنی لپیٹ میں لیتی ہے۔ ﴿ اِنَّالَّذِیْنَكَفَرُوْایُنْفِقُوْنَاَمْوَالَهُمْلِیَصُدُّوْاعَنْسَبِیْلِاللّٰهِ﴾”کافر اپنے مال خرچ کرتے ہیں تاکہ وہ اللہ کے راستے سے روکیں “ یعنی تاکہ وہ حق کا ابطال کر کے باطل کی مدد کریں اور اللہ رحمن کی وحدانیت کی نفی کر کے بتوں کی عبادت کے دین کو قائم کریں۔ ﴿ فَسَیُنْفِقُوْنَهَا ﴾”سو ابھی اور خرچ کریں گے“ یعنی یہ نفقات ان سے ابھی اور صادر ہوں گے اور یہ نفقات انھیں بہت خفیف محسوس ہوں گے کیونکہ وہ باطل سے چمٹے ہوئے ہیں اور حق کے خلاف سخت بغض رکھتے ہیں، ﴿ ثُمَّتَكُوْنُعَلَیْهِمْحَسْرَةً ﴾”پھر آخر ہو گا وہ ان پر افسوس“ یعنی ان کو ندامت، رسوائی اور ذلت کا سامنا کرنا ہوگا، ﴿ ثُمَّیُغْلَبُوْنَ﴾”پھر وہ مغلوب ہوں گے“ پس ان کے مال و متاع اور آرزوئیں خاک میں مل جائیں گی اور آخرت میں انھیں سخت عذاب دیا جائے گا۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿ وَالَّذِیْنَكَفَرُوْۤااِلٰىجَهَنَّمَیُحْشَرُوْنَ ﴾”تمام کفار کو جہنم میں اکٹھا کیا جائے گا“ تاکہ وہ جہنم کا عذاب چکھیں کیونکہ جہنم ہی خبیث مردوں اور ان کی خباثت کا ٹھکانا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
يقول تعالى مبيناً لعداوة المشركين وكيدهم ومكرهم ومبارزتهم لله ولرسوله وسعيهم في إطفاء نوره وإخماد كلمتِهِ، وأنَّ وبالَ مكرِهم سيعود عليهم، ولا يَحيقُ المكر السِّيئ إلاَّ بأهله، فقال: {إنَّ الذين كفروا ينفقون أموالَهم لِيَصُدُّوا عن سبيل الله}؛ أي: ليبطلوا الحقَّ، وينصروا الباطل، ويَبْطُلَ توحيدُ الرحمن، ويقومَ دينُ عبادة الأوثان.
{فسينفقونها}؛ أي: فسيصدِرون هذه النفقة، وتَخِفُّ عليهم، لتمسُّكهم بالباطل، وشدة بغضهم للحق، ولكنها ستكون {عليهم حسرةً}؛ أي: ندامةً وخزياً وذلاًّ، {ثم يُغْلَبون}: فتذهب أموالهم وما أمَّلوا، ويعذَّبون في الآخرة أشدَّ العذاب، ولهذا قال: {والذين كفروا إلى جهنَّم يُحشرون}؛ أي: يجمعون إليها ليذوقوا عذابها، وذلك لأنَّها دار الخبث والخبثاء.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔