اور انھیں کیا ہے کہ اللہ انھیں عذاب نہ دے، جب کہ وہ مسجد حرام سے روک رہے ہیں، حالانکہ وہ اس کے متولی نہیں، اس کے متولی نہیں ہیں مگر جو متقی ہیں اور لیکن ان کے اکثر نہیں جانتے۔
En
اور (اب) ان کے لیے کون سی وجہ ہے کہ وہ انہیں عذاب نہ دے جب کہ وہ مسجد محترم (میں نماز پڑھنے) سے روکتے ہیں اور وہ اس مسجد کے متولی بھی نہیں۔ اس کے متولی تو صرف پرہیزگار ہیں۔ لیکن ان میں اکثر نہیں جانتے
اور ان میں کیا بات ہے کہ ان کو اللہ تعالیٰ سزا نہ دے حاﻻنکہ وه لوگ مسجد حرام سے روکتے ہیں، جب کہ وه لوگ اس مسجد کے متولی نہیں۔ اس کے متولی تو سوا متقیوں کے اور اشخاص نہیں، لیکن ان میں اکثر لوگ علم نہیں رکھتے
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
بنابریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿ وَمَاكَانَاللّٰهُمُعَذِّبَهُمْوَهُمْیَسْتَغْفِرُوْنَ۠ ﴾”اور اللہ ان کو عذاب نہیں دے گا جبکہ وہ معافی مانگنے والے ہوں گے“ یہی وہ مانع تھا جو عذاب کو واقع ہونے سے روک رہا تھا حالانکہ اس کے اسباب منعقد ہو چکے تھے، پھر فرمایا: ﴿ وَمَالَهُمْاَلَّایُعَذِّبَهُمُاللّٰهُ ﴾”اور ان میں کیا بات ہے کہ اللہ ان کو عذاب نہ دے“ یعنی کون سی چیز ان سے اللہ تعالیٰ کے عذاب کو دور کر سکتی ہے حالانکہ ان کے کرتوت ایسے ہیں جو اس عذاب کو واجب ٹھہراتے ہیں اور وہ ہے ان کا لوگوں کو مسجد حرام میں عبادت سے روکنا، خاص طور پر انھوں نے نبی مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب کرام کو مسجد حرام سے روکا حالانکہ مسجد حرام میں عبادت کرنے کے وہی سب سے زیادہ مستحق تھے۔ بنابریں فرمایا: ﴿ وَمَاكَانُوْۤا ﴾”اور نہیں تھے وہ“ یعنی مشرکین ﴿ اَوْلِیَآءَهٗ ﴾”اس کا اختیار رکھنے والے“ اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ ضمیر اللہ تعالیٰ کی طرف لوٹتی ہو، یعنی (اولیاء اللہ) نیز یہ احتمال بھی ہو سکتا ہے کہ ضمیر کا مرجع مسجد حرام ہو یعنی وہ مسجد حرام کے دوسرے لوگوں سے زیادہ مستحق نہ تھے۔
﴿ اِنْاَوْلِیَآؤُهٗۤاِلَّاالْ٘مُتَّقُوْنَ ﴾”اس کا اختیار رکھنے والے تو وہی ہیں جو اللہ سے ڈرتے ہیں “ اور یہ وہ لوگ ہیں جو اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لائے ہیں جنھوں نے صرف اللہ تعالیٰ کو عبادت کا مستحق قرار دیا اور اپنے دین کو اللہ تعالیٰ کے لیے خالص کیا، ﴿ وَلٰكِنَّاَكْثَرَهُمْلَایَعْلَمُوْنَ﴾”لیکن ان میں سے اکثر نہیں جانتے۔“ اسی لیے وہ اپنے لیے ایسے امور کے مدعی ہیں جن کے دوسرے لوگ زیادہ مستحق ہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
ثم قال: {وما لهم أن لا يعذِّبَهم الله}؛ أي: أيُّ شيء يمنعُهم من عذاب الله وقد فعلوا ما يوجِبُ ذلك؟ وهو صدُّ الناس عن المسجد الحرام، خصوصاً صدَّهم النبي - صلى الله عليه وسلم - وأصحابه الذين هم أولى به منهم، ولهذا قال: {وما كانوا}؛ أي: المشركون، {أولياءه}: يُحتمل أنَّ الضمير يعود إلى الله؛ أي: أولياء الله، ويحتمل أن يعود إلى المسجد الحرام؛ أي: وما كانوا أولى به من غيرهم. {إن أولياؤُهُ إلا المتَّقون}: وهم الذين آمنوا بالله ورسوله وأفردوا الله بالتوحيد والعبادة وأخلصوا له الدين. {ولكنَّ أكثرهم لا يعلمونَ}: فلذلك ادَّعوا لأنفسهم أمراً غيرُهم أولى به.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔