تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
نماز عابداں سجدہ سجود است
نماز عاشقاں کلی وجود است
”عابدوں کی نماز سجدہ سجود ہے مگر عاشقوں کی نماز (معشوق کا) پورا وجود ہی ہے۔“
ایک صوفی نے تو صاف ہی اپنے مرشد کو قبلہ بھی قرار دے دیا ہے، چنانچہ وہ کہتا ہے
ہر قوم راست را ہے، دینے و قبلہ گاہے
من قبلہ راست کردم برسمت کج کلا ہے
”ہر قوم کا ایک راستہ، ایک دین اور ایک قبلہ ہوتا ہے، مگر میں نے تو اپنا قبلہ ایک ٹیڑھی ٹوپی والے کی طرف سیدھا کر لیا ہے۔“ اگر ان میں سے کوئی نماز پڑھتا بھی ہے تو ایسے طریقے سے جس طریقے سے پڑھنے والے کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ دوبارہ نماز پڑھ، تو نے نماز پڑھی ہی نہیں۔ اللہ کی قسم! جب تک مسلمان تصور شیخ کا شرک اور صوفیوں کی عبادت کے یہ خود ساختہ طریقے اور موسیقی و رقص جیسی دل میں نفاق پیدا کرنے والی خرافات ترک نہیں کرتے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بتائے ہوئے طریقے کے مطابق ارکان اسلام و ایمان کی پابندی، خصوصاً جہاد نہیں کرتے کبھی دنیا میں سر نہیں اٹھا سکتے، ہمیشہ ذلت و خواری ہی ان پر مسلط رہے گی۔
➋ {فَذُوْقُوا الْعَذَابَ بِمَا كُنْتُمْ تَكْفُرُوْنَ:} کفر و شرک کے ارتکاب، سیٹیوں، تالیوں اور رقص کو نماز سمجھنے کا نتیجہ دنیا اور آخرت کے عذاب کی صورت میں چکھو۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
ہاں ان میں جو کمزر مسلمان رہ گئے تھے اور ہجرت پر قادر نہ تھے وہ استغفار میں لگے رہتے تھے اور ان کی ان میں موجودگی اللہ کے عذابوں کے رکنے کا ذریعہ تھی چنانچہ حدیبیہ کے واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے ارشاد الٰہی ہے «هُمُ الَّذِينَ كَفَرُوا وَصَدُّوكُمْ عَنِ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَالْهَدْيَ مَعْكُوفًا أَن يَبْلُغَ مَحِلَّهُ ۚ وَلَوْلَا رِجَالٌ مُّؤْمِنُونَ وَنِسَاءٌ مُّؤْمِنَاتٌ لَّمْ تَعْلَمُوهُمْ أَن تَطَئُوهُمْ فَتُصِيبَكُم مِّنْهُم مَّعَرَّةٌ بِغَيْرِ عِلْمٍ ۖ لِّيُدْخِلَ اللَّـهُ فِي رَحْمَتِهِ مَن يَشَاءُ ۚ لَوْ تَزَيَّلُوا لَعَذَّبْنَا الَّذِينَ كَفَرُوا مِنْهُمْ عَذَابًا أَلِيمًا» ۱؎ [48-الفتح: 25]، یعنی ’ یہ مکے والے ہی تو وہ ہیں جنہوں نے کفر کیا اور تمہیں مسجد الحرام سے روکا اور قربانی کے جانوروں کو بھی نہ آنے دیا کہ وہ جہاں تھے وہیں رکے کھڑے رہے اور اپنے حلال ہونے کی جگہ نہ پہنچ سکے۔ اگر شہر مکہ میں کچھ مسلمان مرد اور کچھ مسلمان عورتیں ایسی نہ ہوتیں کہ تم ان کے حال سے واقف نہیں تھے، اور عین ممکن تھا کہ لڑائی کی صورت میں تم انہیں بھی پامال کر ڈالتے اور نادانستہ ان کی طرف سے تمہیں نقصان پہنچ جاتا تو بیشک تمہیں اسی وقت لڑائی کی اجازت مل جاتی۔ اس وقت کی صلح اس لیے ہے کہ اللہ جسے چاہے اپنی رحمت میں لے لے۔‘
ہاں ایک قول یہ بھی ہے کہ اگر مراد ان کا خود کا استغفار ہو تو اس آیت نے پہلی آیت «وَمَا كَانَ اللَّـهُ لِيُعَذِّبَهُمْ وَأَنتَ فِيهِمْ» کو منسوخ کر دیا۔ چنانچہ عکرمہ اور حسن بصری رحمہ اللہ علیہم وغیرہ کا یہ قول بھی ہے کہ «انفال» میں «وَمَا كَانَ اللَّـهُ لِيُعَذِّبَهُمْ وَأَنتَ فِيهِمْ» والی آیت کو اسکے بعد والی آیت «وَمَا لَهُمْ أَلَّا يُعَذِّبَهُمُ اللَّـهُ» نے منسوخ کردیا ہے۔
چنانچہ «فَذُوقُوا الْعَذَابَ» فرمایا گیا چنانچہ اہل مکہ سے جنگ بھی ہوئی، انہیں ضرور بھی پہنچے، ان پر قحط سالیاں بھی آئیں پس ان مشرکوں کا اس آیت میں استثنا کر لیا گیا ہے۔ انہیں اللہ کے عذاب کیوں نہ ہوں؟ یہ مومن لوگوں کو کعبتہ اللہ میں نماز پڑھنے سے روکتے ہیں جو مومن بوجہ اپنی کمزوری کے اب تک مکہ میں ہی ہیں اور ان کے سوار اور مومنوں کو بھی طواف و نماز سے روکتے ہیں حالانکہ اصل اہلیت ان ہی میں ہے۔ ان مشرکوں میں اس کی اہلیت نہیں جیسے فرمان ہے «مَا كَانَ لِلْمُشْرِكِينَ أَن يَعْمُرُوا مَسَاجِدَ اللَّـهِ شَاهِدِينَ عَلَىٰ أَنفُسِهِم بِالْكُفْرِ ۚ أُولَـٰئِكَ حَبِطَتْ أَعْمَالُهُمْ وَفِي النَّارِ هُمْ خَالِدُونَ» ۱؎ [9-التوبة:17]، ’ مشرکین اللہ کے گھروں کی آبادی کے اہل نہیں وہ تو کفر میں مبتلا ہیں ان کے اعمال اکارت ہیں اور وہ ہمیشہ کے جہنمی ہیں۔‘
اور آیت میں ہے کہ «مَا كَانَ لِلْمُشْرِكِينَ أَن يَعْمُرُوا مَسَاجِدَ اللَّـهِ شَاهِدِينَ عَلَىٰ أَنفُسِهِم بِالْكُفْرِ ۚ أُولَـٰئِكَ حَبِطَتْ أَعْمَالُهُمْ وَفِي النَّارِ هُمْ خَالِدُونَ» ۱؎ [9-التوبہ: 17] ’ مشرکوں کی زیبا نہیں کہ خدا کی مسجدوں کو آباد کریں جب کہ وہ اپنے آپ پر کفر کی گواہی دے رہے ہیں۔ ان لوگوں کے سب اعمال بیکار ہیں اور یہ ہمیشہ دوزخ میں رہیں گے۔ ‘
«وَصَدٌّ عَن سَبِيلِ اللَّـهِ وَكُفْرٌ بِهِ وَالْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَإِخْرَاجُ أَهْلِهِ مِنْهُ أَكْبَرُ عِندَ اللَّـهِ» ۱؎ [2-البقرة: 217] ’ راہ رب سے روکنا، اللہ کے ساتھ کفر کرنا، مسجد الحرام کی بیحرمتی کرنا اور اس کے لائق لوگوں کو اس سے نکالنا اللہ تعالیٰ کے نزدیک بہت بڑا جرم ہے۔‘
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا گیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دوست کون ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { ہر ایک پرہیزگار اللہ سے ڈرنے والا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑھا «إِنْ أَوْلِيَاؤُهُ إِلَّا الْمُتَّقُونَ» ۔ } ۱؎ [سلسلۃ احادیث ضعیفہ البانی:1304]
مستدرک حاکم میں ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے قریشیوں کو جمع کیا پھر پوچھا کہ { تم میں اس وقت کوئی اور تو نہیں؟ } انہوں نے کہا بہنوں کی اولاد اور حلیف اور مولیٰ ہیں۔ فرمایا: { یہ تینوں تو تم میں سے ہی ہیں۔ سنو تم میں سے میرے دوست وہی ہیں جو تقوے اور پرہیزگاری والے ہوں }۱؎ [سلسلۃ احادیث صحیحہ البانی:1688]
پس اللہ کے اولیاء محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب رضی اللہ عنہم اور کل مجاہد خواہ وہ کوئی ہو اور کہیں کے ہوں۔
پھر ان کی ایک اور شرارت اور بےڈھنگا پن بیان فرماتا ہے۔ کعبے میں آ کر کیا کرتے ہیں؟ یا تو جانوروں کی سی سیٹیاں بجاتے ہیں، منہ میں انگلیاں رکھین اور سیٹیاں شروع کریں یا تالیاں پیٹنے لگے۔ طواف کرتے ہیں تو ننگے ہو کر، رخسار جھکا کر، سیٹی بجائی، تالی بجائی، چلئے نماز ہو گئی۔ کبھی رخسار زمین پر لٹکا لیا۔ بائیں طرف سے طواف کیا۔
یہ بھی مقصود تھا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز بگاڑیں، مومنوں کا مذاق اڑائیں، لوگوں کو راہ رب سے روکیں۔ اب اپنے کفر کا بھرپور پھل چکھو، بدر کے دن قید ہو کے قتل ہوئے، تو لاچاری، چیخ اور زلزلے آئے۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
يعني: أن الله تعالى إنما جعل بيته الحرام ليقامَ فيه دينُه وتُخْلَصَ له فيه العبادة؛ فالمؤمنون هم الذين قاموا بهذا الأمر، وأما هؤلاء المشركون الذين يصدُّون عنه؛ فما كان صلاتُهم فيه، التي هي أكبر أنواع العبادات {إلَّا مُكاءً وتصديةً}؛ أي: صفيراً وتصفيقاً؛ فعلَ الجهلة الأغبياء، الذين ليس في قلوبهم تعظيمٌ لربِّهم ولا معرفة بحقوقه ولا احترام لأفضل البقاع وأشرفها؛ فإذا كانت هذه صلاتهم فيه؛ فكيف ببقيَّة العبادات؟! فبأيِّ شيء كانوا أولى بهذا البيت من المؤمنين، الذين هم في صلاتهم خاشعون، والذين هم عن اللغو معرضون؟! ... إلى آخر ما وصفهم الله به من الصفات الحميدة والأفعال السديدة لا جرم أورثهم الله بيته الحرام ومكَّنهم منه، وقال [لهم] بعدما مكَّن لهم فيه: {يا أيُّها الذين آمنوا إنَّما المشركون نَجَسٌ فلا يَقْرَبوا المسجدَ الحرامَ بعد عامهم هذا}، وقال هنا: {فذوقوا العذابَ بما كنتُم تكفرون}.