(اصل) مومن تو وہی ہیں کہ جب اللہ کا ذکر کیا جائے تو ان کے دل ڈر جاتے ہیں اور جب ان پر اس کی آیات پڑھی جائیں تو انھیں ایمان میں بڑھا دیتی ہیں اور وہ اپنے رب ہی پر بھروسا رکھتے ہیں۔
En
مومن تو وہ ہیں کہ جب خدا کا ذکر کیا جاتا ہے کہ ان کے دل ڈر جاتے ہیں اور جب انہیں اس کی آیتیں پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو ان کا ایمان اور بڑھ جاتا ہے۔ اور وہ اپنے پروردگار پر بھروسہ رکھتے ہیں
بس ایمان والے تو ایسے ہوتے ہیں کہ جب اللہ تعالیٰ کا ذکر آتا ہے تو ان کے قلوب ڈر جاتے ہیں اور جب اللہ کی آیتیں ان کو پڑھ کر سنائی جاتیں ہیں تو وه آیتیں ان کے ایمان کو اور زیاده کردیتی ہیں اور وه لوگ اپنے رب پر توکل کرتے ہیں
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
چونکہ ایمان کی دو قسمیں ہیں:
(۱) ایمان کامل، جس پر مدح و ثنا اور کامل فوز و فلاح مترتب ہوتی ہے۔
(۲) ناقص ایمان۔
تو اس کامل ایمان کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ اِنَّمَاالْمُؤْمِنُوْنَ ﴾”مومن تو صرف وہ ہیں “ الف اور لام استغراق کے لیے ہے جو تمام شرائع ایمان کو شامل ہے۔ ﴿ الَّذِیْنَاِذَاذُكِرَاللّٰهُوَجِلَتْقُ٘لُوْبُهُمْ ﴾”کہ جب ذکر کیا جائے اللہ کا تو ڈر جائیں دل ان کے“ یعنی ان کے دل ڈر جاتے ہیں اور یہ ڈر خشیت الٰہی اور محارم سے اجتناب کا موجب بنتا ہے کیونکہ خوف الٰہی گناہوں سے باز آنے کی سب سے بڑی علامت ہے۔
﴿ وَاِذَاتُلِیَتْعَلَیْهِمْاٰیٰتُهٗزَادَتْهُمْاِیْمَانًا ﴾”اور جب ان پر اس کی آیات پڑھی جائیں تو زیادہ ہو جاتا ہے ان کا ایمان“ اور اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ آیات الٰہی کو حضور قلب کے ساتھ غور سے سنتے ہیں تاکہ وہ ان میں غور و فکر کریں جس سے ان کے ایمان میں اضافہ ہو کیونکہ تدبر، اعمال قلوب میں شمار ہوتا ہے نیز ان کے لیے معانی کی بھی توضیح ہوتی ہے جن سے وہ لاعلم ہیں اور ان کو ان امور کی یاددہانی ہوتی ہے جن کو وہ فراموش کر چکے ہیں یا ان کے دلوں میں نیکیوں کی رغبت پیدا ہوتی ہے اور اپنے رب کے اکرام و تکریم کے حصول کا شوق پیدا ہوتا ہے یا ان کے دل میں عذاب سے خوف اور معاصی سے ڈر پیدا ہوتا ہے اور ان تمام امور سے ایمان بڑھتا ہے۔
﴿ وَّعَلٰىرَبِّهِمْ ﴾”اور اپنے رب پر“ یعنی اپنے رب وحدہ لا شریک پر ﴿ یَتَوَؔكَّلُ٘وْنَ ﴾”وہ بھروسہ کرتے ہیں “ یعنی اپنے مصالح کے حصول اور دینی اور دنیاوی مضرتوں کو دور کرنے میں اپنے دلوں میں اپنے رب پر بھروسہ کرتے ہیں اور انھیں پورا وثوق ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ یہ کام ضرور کرے گا۔ توکل ہی انسانوں کو تمام اعمال پر آمادہ کرتا ہے توکل کے بغیر اعمال وجود میں آتے ہیں نہ تکمیل پا سکتے ہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
ولما كان الإيمانُ قسمين: إيماناً كاملاً يترتَّب عليه المدح والثناء والفوزُ التامُّ، وإيماناً دون ذلك؛ ذَكَرَ الإيمانَ الكامل، فقال: {إنما المؤمنون}: الألف واللام للاستغراق لشرائع الإيمان، {الذين إذا ذُكِرَ اللهُ وَجِلَتْ قلوبُهم}؛ أي: خافت ورهبت فأوجبت لهم خشية الله تعالى الانكفافَ عن المحارم؛ فإنَّ خوف الله تعالى أكبر علاماته أن يَحْجُزَ صاحبَه عن الذنوب. {وإذا تُلِيَتْ عليهم آياتُهُ زادتهم إيماناً}: ووجه ذلك أنَّهم يلقون له السمع ويحضِرون قلوبهم لتدبُّره؛ فعند ذلك يزيد إيمانهم؛ لأنَّ التدبُّر من أعمال القلوب، ولأنَّه لا بدَّ أنْ يبيِّن لهم معنىً كانوا يجهلونَه ويتذكَّرون ما كانوا نَسوه أو يُحْدِثَ في قلوبهم رغبةً في الخير واشتياقاً إلى كرامة ربِّهم أو وَجَلاً من العقوبات وازدجاراً عن المعاصي، وكلُّ هذا مما يزداد به الإيمان. {وعلى ربِّهم}: وحده لا شريك له {يتوكَّلون}؛ أي: يعتَمِدون في قلوبهم على ربِّهم في جلب مصالحهم ودفع مضارِّهم الدينيَّة والدنيويَّة، ويثقون بأنَّ الله تعالى سيفعلُ ذلك، والتوكُّل هو الحامل للأعمال كلِّها؛ فلا توجَدُ ولا تكْمُلُ إلا به.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔