تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
جیسے فرمان ہے کہ «وَالَّذِينَ إِذَا فَعَلُوا فَاحِشَةً أَوْ ظَلَمُوا أَنفُسَهُمْ ذَكَرُوا اللَّـهَ فَاسْتَغْفَرُوا لِذُنُوبِهِمْ وَمَن يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا اللَّـهُ وَلَمْ يُصِرُّوا عَلَىٰ مَا فَعَلُوا وَهُمْ يَعْلَمُونَ» ۱؎ [3-آل عمران: 135] ’ ان سے اگر کوئی برائی سرزد ہو بھی جاتی ہے تو یاد اللہ کرتے ہیں پھر اپنے گناہ سے استغفار کرتے ہیں حقیقت میں سوائے اللہ کے کوئی گناہوں کا بخشنے والا بھی نہیں۔ یہ لوگ باوجود علم کے کسی گناہ پر اصرار نہیں کرتے۔ ‘
اور آیتوں میں ہے آیت «وَأَمَّا مَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهِ وَنَهَى النَّفْسَ عَنِ الْهَوَىٰ فَإِنَّ الْجَنَّةَ هِيَ الْمَأْوَىٰ» ۱؎ [79- النازعات: 40، 41]، یعنی ’ جو شخص اپنے رب کے پاس کھڑا ہونے سے ڈرا اور اپنے نفس کو خواہشوں سے روکا اس کا ٹھکانا جنت ہے۔ ‘
سدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ وہ لوگ ہیں کہ ان کے جی میں ظلم کرنے کی یا گناہ کرنے کی آتی ہے لیکن اگر ان سے کہا جائے کہ اللہ سے ڈر جا وہیں ان کا دل کانپنے لگتا ہے، ام الدرداء رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ دل اللہ کے خوف سے حرکت کرنے لگتے ہیں ایسے وقت انسان کو اللہ عزوجل سے دعا مانگنی چاہیئے۔ ایمانی حالت بھی ان کی روز بروز زیادتی میں رہتی ہے ادھر قرآنی آیات سنیں اور ایمان بڑھا۔
اس آیت سے اور اس جیسی اور آیتوں سے امام الائمہ امام بخاری رحمہ اللہ وغیرہ ائمہ کرام رحمہ اللہ علیہم نے استدلال کیا ہے کہ ایمان کی زیادتی سے مراد ہے کہ دلوں میں ایمان کم یا زیادہ ہوتا رہتا ہے یہی مذہب جمہور امت کا ہے بلکہ کئی ایک نے اس پر اجماع نقل کیا ہے جیسے شافعی، احمد بن حنبل، ابوعبیدہ رحمہ اللہ علیہم وغیرہ جیسے کہ ہم نے شرح بخاری کے شروع میں پوری طرح بیان کر دیا ہے۔ «والْحَمْدُ لِلَّـه» ۔
«وَعَلَىٰ رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُونَ» یعنی ’ ان کا بھروسہ صرف اپنے رب پر ہوتا ہے ‘ نہ اس کے سوا کسی سے وہ امید رکھیں نہ اس کے سوا کوئی ان کا مقصود، نہ اس کے سوا کسی سے وہ پناہ چاہیں نہ اس کے سوا کسی سے مرادیں مانگیں نہ کسی اور کی طرف جھکیں وہ جانتے ہیں کہ قدرتوں والا وہی ہے جو وہ چاہتا ہے ہوتا ہے جو نہیں چاہتا ہرگز نہیں ہوتا تمام ملک میں اسی کا حکم چلتا ہے ملک صرف وہی ہے وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں نہ اس کے کسی حکم کو کوئی ٹال سکے وہ جلد ہی حساب لینے والا ہے۔
سعید بن جبیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں اللہ پر توکل کرنا ہی پورا ایمان ہے۔
«الَّذِينَ يُقِيمُونَ الصَّلَاةَ وَمِمَّا رَزَقْنَاهُمْ يُنفِقُونَ» ۱؎ [8-الأنفال:3] ان مومنوں کے ایمان اور اعتقاد کی حالت بیان فرما کر اب ان کے اعمال کا ذکر ہو رہا ہے کہ ’ وہ نمازوں کے پابند ہوتے ہیں۔ وقت کی، وضو کی، رکوع کی، سجدے کی، کامل پاکیزگی کی، قرآن کی تلاوت، تشہد، درود، سب چیزوں کی حفاظت و نگرانی کرتے ہیں۔‘
پھر فرماتا ہے کہ «أُولَـٰئِكَ هُمُ الْمُؤْمِنُونَ حَقًّا» ۱؎ [8-الأنفال:4] ’ جن میں یہ اوصاف ہوں وہ سچے مومن ہیں ‘
طبرانی میں ہے کہ حارث بن مالک انصاری رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے گذرے تو آپ نے ان سے دریافت فرمایا کہ { تمہاری صبح کس حال میں ہوئی؟ } انہوں نے جواب دیا کہ سچے مومن ہونے کی حالت میں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ { سمجھ لو کہ کیا کہہ رہے ہو؟ ہرچیز کی حقیقت ہوا کرتی ہے۔ جانتے ہو حقیقت ایمان کیا ہے؟ } جواب دیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں نے اپنی خواہشیں دنیا سے الگ کر لیں راتیں یاد اللہ میں جاگ کر دن اللہ کی راہ میں بھوکے پیاسے رہ کر گذراتا ہوں۔ گویا میں اللہ کے عرش کو اپنی نگاہوں کے سامنے دیکھتا رہتا ہوں اور گویا کہ میں اہل جنت کو دیکھ رہا ہوں کہ وہ آپس میں ہنسی خوشی ایک دوسرے سے مل جل رہے ہیں اور گویا کہ میں اہل دوزخ کو دیکھ رہا ہوں کہ وہ دوزخ میں جل بھن رہے ہیں۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { حارثہ تو نے حقیقت جان لی پس اس حال پر ہمیشہ قائم رہنا۔ } تین مرتبہ یہی فرمایا۔۱؎ [سلسلۃ احادیث ضعیفہ البانی:0000،]
پس آیت میں بالکل محاورہ عرب کے مطابق ہے جیسے وہ کہا کرتے ہیں کہ گو فلاں قوم میں سردار بہت سے ہیں لیکن صحیح معنی میں سردار فلاں ہے یا فلاں قبیلے میں تاجر بہت ہیں لیکن صحیح طور پر تاجر فلاں ہے، فلاں لوگوں میں شاعر ہیں لیکن سچا شاعر فلاں ہے۔
گویہ درجے اونچے نیچے ہوں گے لیکن کسی بلند مرتبہ شخص کے دل میں یہ خیال نہ ہو گا کہ میں فلاں سے اعلیٰ ہوں اور نہ کسی ادنیٰ درجے والوں کو یہ خیال ہو گا کہ میں فلاں سے کم ہوں۔
بخاری و مسلم میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ علیین والوں کو نیچے کے درجے کے لوگ اس طرح دیکھیں گے جیسے تم آسمان کے کناروں کے ستاروں کو دیکھتے ہو۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے پوچھا یہ مرتبے تو انبیاء کے ہونگے؟ کوئی اور تو اس مرتبے پر نہ پہنچ سکے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { کیوں نہیں؟ اس کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے وہ لوگ بھی جو اللہ پر ایمان لائیں اور رسولوں کو سچ جانیں۔} ۱؎ [صحیح بخاری:3656]
اہل سنن کی حدیث میں ہے کہ { اہل جنت بلند درجہ جنتیوں کو ایسے دیکھیں گے جیسے تم آسمان کے کناروں کے چمکیلے ستاروں کو دیکھا کرتے ہو یقیناً سیدنا ابوبکر اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہم انہی میں ہیں اور بہت اچھے ہیں۔} ۱؎ [سنن ابن ماجہ:0000،قال الشيخ الألباني:صحیح]
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
ولما كان الإيمانُ قسمين: إيماناً كاملاً يترتَّب عليه المدح والثناء والفوزُ التامُّ، وإيماناً دون ذلك؛ ذَكَرَ الإيمانَ الكامل، فقال: {إنما المؤمنون}: الألف واللام للاستغراق لشرائع الإيمان، {الذين إذا ذُكِرَ اللهُ وَجِلَتْ قلوبُهم}؛ أي: خافت ورهبت فأوجبت لهم خشية الله تعالى الانكفافَ عن المحارم؛ فإنَّ خوف الله تعالى أكبر علاماته أن يَحْجُزَ صاحبَه عن الذنوب. {وإذا تُلِيَتْ عليهم آياتُهُ زادتهم إيماناً}: ووجه ذلك أنَّهم يلقون له السمع ويحضِرون قلوبهم لتدبُّره؛ فعند ذلك يزيد إيمانهم؛ لأنَّ التدبُّر من أعمال القلوب، ولأنَّه لا بدَّ أنْ يبيِّن لهم معنىً كانوا يجهلونَه ويتذكَّرون ما كانوا نَسوه أو يُحْدِثَ في قلوبهم رغبةً في الخير واشتياقاً إلى كرامة ربِّهم أو وَجَلاً من العقوبات وازدجاراً عن المعاصي، وكلُّ هذا مما يزداد به الإيمان. {وعلى ربِّهم}: وحده لا شريك له {يتوكَّلون}؛ أي: يعتَمِدون في قلوبهم على ربِّهم في جلب مصالحهم ودفع مضارِّهم الدينيَّة والدنيويَّة، ويثقون بأنَّ الله تعالى سيفعلُ ذلك، والتوكُّل هو الحامل للأعمال كلِّها؛ فلا توجَدُ ولا تكْمُلُ إلا به.