تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الأنفال (8) — آیت 1

یَسۡـَٔلُوۡنَکَ عَنِ الۡاَنۡفَالِ ؕ قُلِ الۡاَنۡفَالُ لِلّٰہِ وَ الرَّسُوۡلِ ۚ فَاتَّقُوا اللّٰہَ وَ اَصۡلِحُوۡا ذَاتَ بَیۡنِکُمۡ ۪ وَ اَطِیۡعُوا اللّٰہَ وَ رَسُوۡلَہٗۤ اِنۡ کُنۡتُمۡ مُّؤۡمِنِیۡنَ ﴿۱﴾
وہ تجھ سے غنیمتوں کے بارے میں پوچھتے ہیں، کہہ دے غنیمتیں اللہ اور اس کے رسول کی ہیں، سو اللہ سے ڈرو اور اپنے آپس کے تعلقات درست کرو اور اللہ اور اس کے رسول کا حکم مانو، اگر تم مومن ہو۔ En
(اے محمد! مجاہد لوگ) تم سے غنیمت کے مال کے بارے میں دریافت کرتے ہیں کہ (کیا حکم ہے) کہہ دو کہ غنیمت خدا اور اس کے رسول کا مال ہے۔ تو خدا سے ڈرو اور آپس میں صلح رکھو اور اگر ایمان رکھتے ہو تو خدا اور اس کے رسول کے حکم پر چلو
En
یہ لوگ آپ سے غنیمتو ں کا حکم دریافت کرتے ہیں، آپ فرما دیجئے! کہ یہ غنیمتیں اللہ کی ہیں اور رسول کی ہیں، سو تم اللہ سے ڈرو اور اپنے باہمی تعلقات کی اصلاح کرو اور اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو اگر تم ایمان والے ہو En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿الْاَنْفَالِ سے مراد غنائم ہیں جو اللہ تعالیٰ نے کفار کے مال میں سے اس امت کو عطا کی ہیں۔ اس سورۂ مبارکہ کی یہ آیات کریمات غزوۂ بدر کے بارے میں نازل ہوئیں۔ غزوۂ بدر میں مسلمانوں کو کفار سے اولین مال غنیمت حاصل ہوا تو اس کے بارے میں بعض مسلمانوں میں نزاع واقع ہوگیا چنانچہ انھوں نے اس بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے استفسار کیا۔ پس اللہ تبارک و تعالیٰ نے یہ آیات نازل فرمائیں۔
﴿یَسْـَٔلُوْنَكَ عَنِ الْاَنْفَالِ وہ آپ سے غنیمتوں کے بارے میں پوچھتے ہیں ان کو کیسے تقسیم کیا جائے اور انھیں کن لوگوں میں تقسیم کیا جائے۔ ﴿قُ٘لِ آپ ان سے کہہ دیجیے ﴿ الْاَنْفَالُ لِلّٰهِ وَالرَّسُوْلِ غنیمتیں اللہ اور رسول کے لیے ہیں وہ جہاں چاہیں گے ان غنائم کو خرچ کریں گے۔ پس تمھیں اللہ اور اس کے رسول کے فیصلے پر اعتراض کرنے کا کوئی حق نہیں۔ بلکہ تم پر فرض ہے کہ جب اللہ اور اس کا رسول فیصلہ کر دیں تو تم ان کے فیصلے پر راضی رہو اور ان کے حکم کے سامنے سر تسلیم خم کر دو اور یہ چیز اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد میں داخل ہے۔ ﴿ فَاتَّقُوا اللّٰهَ پس اللہ سے ڈرو اس کے احکام کی تعمیل اور اس کے نواہی سے اجتناب کر کے۔ ﴿ وَاَصْلِحُوْا ذَاتَ بَیْنِكُمْ اور صلح کرو آپس میں یعنی تم آپس کے بغض، قطع تعلقی اور ایک دوسرے سے پیٹھ پھیرنے کی، آپس کی مودت، محبت اور میل جول کے ذریعے سے اصلاح کرو۔ اس طرح تم میں اتفاق پیدا ہوگا اور قطع تعلق، مخاصمت اور آپس کے لڑائی جھگڑے کی وجہ سے جو نقصان پہنچا ہے اس کا ازالہ ہو جائے گا۔ آپس کے معاملات کی اصلاح میں حسن اخلاق اور برا سلوک کرنے والوں سے درگزر کا بہت بڑا دخل ہے اس سے دلوں کا بغض اور نفرت دور ہو جاتی ہے اور ان تمام باتوں کی جامع بات یہ ہے ﴿ وَاَطِیْعُوا اللّٰهَ وَرَسُوْلَهٗۤ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو، اگر تم مومن ہو کیونکہ ایمان اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی اطاعت کا تقاضا کرتا ہے جیسے جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی اطاعت نہیں کرتا وہ مومن نہیں، جس کی اطاعت الٰہی اور اطاعت رسول ناقص ہے اس کا ایمان بھی اتنا ہی ناقص ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

الأنفال: هي الغنائم التي يُنَفِّلُها اللهُ لهذه الأمة من أموال الكفار. وكانت هذه الآيات في هذه السورة قد نزلت في قصَّة بدرٍ، أول غنيمة كبيرة غنمها المسلمون من المشركين، فحصل بين بعض المسلمين فيها نزاعٌ، فسألوا رسولَ الله - صلى الله عليه وسلم - عنها، فأنزل الله: {يسألونَكَ عن الأنفالِ}: كيف تُقْسَمُ؟ وعلى مَن تُقْسَمُ؟ {قل}: لهم الأنفال لله ورسولِهِ يضعانِها حيث شاءا؛ فلا اعتراض لكم على حكم الله ورسوله، بل عليكم إذا حكم الله ورسوله أن ترضوا بحكمهما وتسلِّموا الأمر لهما، وذلك داخلٌ في قوله: {فاتَّقوا الله}: بامتثال أوامره واجتناب نواهيه، {وأصلِحوا ذاتَ بينِكم}؛ أي: أصلِحوا ما بينكم من التشاحن والتقاطع والتدابر بالتوادد والتحاب والتواصل؛ فبذلك تجتمع كلمتُكم ويزولُ ما يحصُلُ بسبب التقاطع من التخاصُم والتشاجُر والتنازع.

ويدخُلُ في إصلاح ذاتِ البين تحسينُ الخُلُق لهم والعفو عن المسيئين منهم؛ فإنه بذلك يزول كثير مما يكون في القلوب من البغضاء والتدابر، والأمر الجامع لذلك كله قوله: {وأطيعوا الله ورسولَه إن كنتم مؤمنين}: فإنَّ الإيمان يدعو إلى طاعة الله ورسوله؛ كما أنَّ من لم يطع الله ورسوله فليس بمؤمنٍ، ومن نقصت طاعتُهُ لله ورسوله؛ فذلك لنقص إيمانه.