تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الأنفال (8) — آیت 3

الَّذِیۡنَ یُقِیۡمُوۡنَ الصَّلٰوۃَ وَ مِمَّا رَزَقۡنٰہُمۡ یُنۡفِقُوۡنَ ؕ﴿۳﴾
وہ لوگ جو نماز قائم کرتے ہیں اور اس میں سے جو ہم نے انھیں دیا، خرچ کرتے ہیں۔ En
(اور) وہ جو نماز پڑھتے ہیں اور جو مال ہم نے ان کو دیا ہے اس میں سے (نیک کاموں میں) خرچ کرتے ہیں
En
جو کہ نماز کی پابندی کرتے ہیں اور ہم نے ان کو جو کچھ دیا ہے وه اس میں سے خرچ کرتے ہیں En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ الَّذِیْنَ یُقِیْمُوْنَ الصَّلٰ٘وةَ جو نماز پڑھتے ہیں۔ فرض اور نفل نماز کو، اس کے ظاہری اور باطنی اعمال، مثلاً: حضور قلب، جو کہ نماز کی روح اور اس کا مغز ہے، کے ساتھ قائم کرتے ہیں۔ ﴿ وَمِمَّا رَزَقْنٰهُمْ یُنْفِقُوْنَ اور جو کچھ ہم نے ان کو دیا ہے، اس میں سے وہ خرچ کرتے ہیں یعنی وہ نفقات واجبہ، مثلاً:زکاۃ، کفارہ، بیویوں، اقارب اور غلاموں پر خرچ کرتے ہیں اور نفقات مستحبہ، مثلاً: بھلائی کے تمام راستوں میں صدقہ کرتے ہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{الذين يقيمون الصلاة}: من فرائض ونوافل، بأعمالها الظاهرة والباطنة؛ كحضور القلب فيها، الذي هو رُوح الصلاة ولُبُّها، {ومما رزقْناهم ينفقونَ}: النفقاتِ الواجبةَ؛ كالزكوات والكفَّارات والنفقة على الزوجات والأقارب وما ملكت أيمانهم، والمستحبَّة؛ كالصدقة في جميع طرق الخير.