تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿ الَّذِیْنَیُقِیْمُوْنَالصَّلٰ٘وةَ ﴾”جو نماز پڑھتے ہیں۔“ فرض اور نفل نماز کو، اس کے ظاہری اور باطنی اعمال، مثلاً: حضور قلب، جو کہ نماز کی روح اور اس کا مغز ہے، کے ساتھ قائم کرتے ہیں۔ ﴿ وَمِمَّارَزَقْنٰهُمْیُنْفِقُوْنَ ﴾”اور جو کچھ ہم نے ان کو دیا ہے، اس میں سے وہ خرچ کرتے ہیں “ یعنی وہ نفقات واجبہ، مثلاً:زکاۃ، کفارہ، بیویوں، اقارب اور غلاموں پر خرچ کرتے ہیں اور نفقات مستحبہ، مثلاً: بھلائی کے تمام راستوں میں صدقہ کرتے ہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{الذين يقيمون الصلاة}: من فرائض ونوافل، بأعمالها الظاهرة والباطنة؛ كحضور القلب فيها، الذي هو رُوح الصلاة ولُبُّها، {ومما رزقْناهم ينفقونَ}: النفقاتِ الواجبةَ؛ كالزكوات والكفَّارات والنفقة على الزوجات والأقارب وما ملكت أيمانهم، والمستحبَّة؛ كالصدقة في جميع طرق الخير.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔