تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الأنفال (8) — آیت 19

اِنۡ تَسۡتَفۡتِحُوۡا فَقَدۡ جَآءَکُمُ الۡفَتۡحُ ۚ وَ اِنۡ تَنۡتَہُوۡا فَہُوَ خَیۡرٌ لَّکُمۡ ۚ وَ اِنۡ تَعُوۡدُوۡا نَعُدۡ ۚ وَ لَنۡ تُغۡنِیَ عَنۡکُمۡ فِئَتُکُمۡ شَیۡئًا وَّ لَوۡ کَثُرَتۡ ۙ وَ اَنَّ اللّٰہَ مَعَ الۡمُؤۡمِنِیۡنَ ﴿٪۱۹﴾
اگر تم فیصلہ چاہو تو یقینا تمھارے پاس فیصلہ آ چکا اور اگر باز آجائو تو وہ تمھارے لیے بہتر ہے اور اگر تم دوبارہ کرو گے تو ہم (بھی) دوبارہ کریں گے اور تمھاری جماعت ہر گز تمھارے کچھ کام نہ آئے گی، خواہ بہت زیادہ ہو اور (جان لو) کہ اللہ ایمان والوں کے ساتھ ہے۔ En
(کافرو) اگر تم (محمد صلی الله علیہ وآلہ وسلم پر) فتح چاہتے ہو تو تمہارے پاس فتح آچکی۔ (دیکھو) اگر تم (اپنے افعال سے) باز آجاؤ تو تمہارے حق میں بہتر ہے۔ اور اگر پھر (نافرمانی) کرو گے تو ہم بھی پھر تمہیں عذاب کریں گے اور تمہاری جماعت خواہ کتنی ہی کثیر ہو تمہارے کچھ بھی کام نہ آئے گی۔ اور خدا تو مومنوں کے ساتھ ہے
En
اگر تم لوگ فیصلہ چاہتے ہو تو وه فیصلہ تمہارے سامنے آموجود ہوا اور اگر باز آجاؤ تو یہ تمہارے لیے نہایت خوب ہے اور اگر تم پھر وہی کام کرو گے تو ہم بھی پھر وہی کام کریں گے اور تمہاری جمعیت تمہارے ذرا بھی کام نہ آئے گی گو کتنی زیاده ہو اور واقعی بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ایمان والوں کے ساتھ ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ اِنْ تَسْتَفْتِحُوْا اور اگر تم چاہتے ہو فیصلہ اے مشرکو! اگر تم اللہ تعالیٰ سے مطالبہ کرتے ہو کہ وہ ظلم و تعدی کا ارتکاب کرنے والوں پر اپنا عذاب نازل کر دے۔ ﴿ فَقَدْ جَآءَكُمُ الْ٘فَتْحُ تو تحقیق آچکا تمھارے پاس فیصلہ یعنی جب اللہ تعالیٰ نے تم پر اپنا عذاب نازل کیا جو تمھارے لیے سزا اور متقین کے لیے عبرت ہے ﴿ وَاِنْ تَنْتَهُوْا اور اگر تم باز آجاؤ۔ یعنی اگر تم فیصلہ چاہنے سے باز آجاؤ۔ ﴿ فَهُوَ خَیْرٌ لَّـكُمْ تو یہ تمھارے لیے بہتر ہے کیونکہ بسا اوقات اللہ تعالیٰ تمھیں مہلت دیتا ہے اور تمھیں فوراً سزا نہیں دیتا۔
﴿وَلَ٘نْ تُغْنِیَ عَنْكُمْ فِئَتُكُمْ شَیْـًٔـا وَّلَوْ كَثُ٘رَتْ اور تمھاری جماعت خواہ کتنی ہی کثیر ہو تمھارے کچھ بھی کام نہ آئے گی۔ یعنی وہ انصار و اعوان تمھارے کچھ کام نہ آئیں گے جن کے بھروسے پر تم جنگ کر رہے ہو، چاہے وہ کتنے ہی زیادہ ہوں۔ ﴿ وَاَنَّ اللّٰهَ مَعَ الْمُؤْمِنِیْنَ اور اللہ ایمان والوں کے ساتھ ہے اور اللہ تعالیٰ جن کے ساتھ ہوتا ہے وہی فتح و نصرت سے نوازے جاتے ہیں خواہ وہ کمزور اور تعداد میں کم ہی کیوں نہ ہوں۔
یہ معیت، جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے خبر دی ہے کہ وہ اس کے ذریعے سے اہل ایمان کی تائید فرماتا ہے، ان کے اعمالِ ایمان کے مطابق ہوتی ہے۔ اگر بعض اوقات دشمنوں کو اہل ایمان پر فتح حاصل ہوتی ہے تو یہ اہل ایمان کی کوتاہی، واجبات ایمان اور اس کے تقاضوں کو پورا نہ کرنے کی وجہ سے ہوتی ہے۔ ورنہ اگر وہ ہر اعتبار سے اللہ تعالیٰ کے احکام پر عمل کریں تو ان کا پرچم کبھی سرنگوں نہ ہو اور دشمن کو کبھی ان پر غالب آنے کا موقع نہ ملے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{إن تستفتحوا}: أيُّها المشركون؛ أي: تطلبون من الله أن يوقع بأسه وعذابه على المعتدين الظالمين، {فقد جاءكم الفتحُ}: حين أوقع الله بكم من عقابِهِ ما كان نَكالاً لكم وعبرةً للمتقين. {وإن تنتهوا}: عن الاستفتاح {فهو خيرٌ لكم}: لأنَّه ربَّما أمهلكم ولم تُعَجَّلْ لكم النقمةُ. {وإن تعودوا}: إلى الاستفتاح وقتال حزب الله المؤمنين {نَعُدْ}: في نصرهم عليكم، {ولن تُغْنِيَ عنكم فئتُكم}؛ أي: أعوانكم وأنصاركم الذين تحاربون وتقاتلون معتمدين عليهم شيئاً. {وأنَّ الله مع المؤمنين}: ومن كان الله معه؛ فهو المنصور، وإن كان ضعيفاً قليلاً عدده.

وهذه المعيَّة التي أخبر الله أنه يؤيِّد بها المؤمنين تكون بحسب ما قاموا به من أعمال الإيمان؛ فإذا أديل العدوُّ على المؤمنين في بعض الأوقات؛ فليس ذلك إلا تفريطاً من المؤمنين وعدم قيامٍ بواجب الإيمان ومقتضاه، وإلاَّ؛ فلو قاموا بما أمر الله به من كلِّ وجهٍ؛ لما انهزم لهم رايةٌ انهزاماً مستقرًّا ولا أدِيلَ عليهم عدوُّهم أبداً.