تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ { وَ اِنْ تَعُوْدُوْا نَعُدْ......:} یعنی اگر پھر مسلمانوں کی مخالفت اور ان سے جنگ کرو گے تو ہم پھر تمھارے ساتھ یہی سلوک کریں گے، اگرچہ تمھاری جماعت کتنی ہی بڑی کیوں نہ ہو۔
➌ { وَ اَنَّ اللّٰهَ مَعَ الْمُؤْمِنِيْنَ: ” اَنَّ “} سے پہلے کئی الفاظ مقدر مانے جا سکتے ہیں، آسان یہ ہے کہ اس جملے کو {” وَاعْلَمُوْا “} کا مفعول مان لیا جائے، یعنی جان لو کہ یقینا اللہ مومنوں کے ساتھ ہے اور اللہ تعالیٰ جس کے ساتھ ہو کوئی اس کا کیا بگاڑ سکتا ہے؟
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
ابوجہل نے بدر والے دن کہا تھا کہ اے اللہ ہم میں سے جو رشتوں ناتوں کا توڑنے والا ہو اور غیر معروف چیز لے کر آیا ہو اسے توکل کی لڑائی میں شکست دے پس اللہ تعالیٰ نے یہی کیا اور یہ اور اس کا لشکر ہار گئے، مکے سے نکلنے سے پہلے ان مشرکوں نے خانہ کعبہ کا غلاف پکڑ کر دعا کی تھی کہ الٰہی دونوں لشکروں میں سے تیرے نزدیک جو اعلیٰ ہو اور زیادہ بزرگ ہو اور زیادہ بہتری والا ہو تو اس کی مدد کر۔ پس اس آیت میں ان سے فرمایا جا رہا ہے کہ ’ لو اللہ کی مدد آ گئی تمہارا کہا ہوا پورا ہو گیا۔ ہم نے اپنے نبی کو جو ہمارے نزدیک بزرگ، بہتر اور اعلیٰ تھے غالب کر دیا۔‘
خود قرآن نے ان کی دعا نقل کی ہے کہ یہ کہتے تھے دعا «وَاِذْ قَالُوا اللّٰهُمَّ اِنْ كَانَ هٰذَا هُوَ الْحَقَّ مِنْ عِنْدِكَ فَاَمْطِرْ عَلَيْنَا حِجَارَةً مِّنَ السَّمَاۗءِ اَوِ ائْتِنَا بِعَذَابٍ اَلِيْمٍ» ۱؎ [8- الانفال: 32]، ’ الٰہی اگر یہ تیری جانب سے راست ہے تو تو ہم پر آسمان سے پتھر برسا یا کوئی اور درد ناک عذاب ہم پر لا۔‘
پھر فرماتا ہے «وَإِن تَعُودُوا نَعُدْ وَلَن تُغْنِيَ عَنكُمْ فِئَتُكُمْ شَيْئًا وَلَوْ كَثُرَتْ» کہ ’ اگر اب بھی تم اپنے کفر سے باز آ جاؤ تو یہ تمہارے لیے بہتر ہے۔ اللہ جل جلالہ اور اس کے رسول کو نہ جھٹلاؤ تو دونوں جہان میں بھلائی پاؤ گے۔ ‘
اور «وَإِنْ عُدتُّمْ عُدْنَا» ۱؎ [17-الاسراء: 8] ’ اگر پھر تم نے یہی کفر و گمراہی کو تو ہم بھی اسی طرح مسلمانوں کے ہاتھوں تمہیں پست کریں گے۔ اگر تم نے پھر اسی طرح فتح مانگی تو ہم پھر اپنے نیک بندوں پر اپنی مدد اتاریں گے ‘ لیکن اول قول قوی ہے۔
یاد رکھو گو تم سب کے سب مل کر چڑھائی کرو تمہاری تعداد کتنی ہی بڑھ جائے اپنے تمام لشکر جمع کر لو لیکن سب تدبیریں دھری کی دھری رہ جائیں گی۔ جس کے ساتھ اللہ تعالیٰ ہو اسے کوئی مغلوب نہیں کر سکتا۔ «وَأَنَّ اللَّـهَ مَعَ الْمُؤْمِنِينَ» ظاہر ہے کہ ’ خالق کائنات مومنوں کے ساتھ ہے‘ اس لیے کہ وہ اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہیں۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{إن تستفتحوا}: أيُّها المشركون؛ أي: تطلبون من الله أن يوقع بأسه وعذابه على المعتدين الظالمين، {فقد جاءكم الفتحُ}: حين أوقع الله بكم من عقابِهِ ما كان نَكالاً لكم وعبرةً للمتقين. {وإن تنتهوا}: عن الاستفتاح {فهو خيرٌ لكم}: لأنَّه ربَّما أمهلكم ولم تُعَجَّلْ لكم النقمةُ. {وإن تعودوا}: إلى الاستفتاح وقتال حزب الله المؤمنين {نَعُدْ}: في نصرهم عليكم، {ولن تُغْنِيَ عنكم فئتُكم}؛ أي: أعوانكم وأنصاركم الذين تحاربون وتقاتلون معتمدين عليهم شيئاً. {وأنَّ الله مع المؤمنين}: ومن كان الله معه؛ فهو المنصور، وإن كان ضعيفاً قليلاً عدده.
وهذه المعيَّة التي أخبر الله أنه يؤيِّد بها المؤمنين تكون بحسب ما قاموا به من أعمال الإيمان؛ فإذا أديل العدوُّ على المؤمنين في بعض الأوقات؛ فليس ذلك إلا تفريطاً من المؤمنين وعدم قيامٍ بواجب الإيمان ومقتضاه، وإلاَّ؛ فلو قاموا بما أمر الله به من كلِّ وجهٍ؛ لما انهزم لهم رايةٌ انهزاماً مستقرًّا ولا أدِيلَ عليهم عدوُّهم أبداً.