تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الأنفال (8) — آیت 20

یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اَطِیۡعُوا اللّٰہَ وَ رَسُوۡلَہٗ وَ لَا تَوَلَّوۡا عَنۡہُ وَ اَنۡتُمۡ تَسۡمَعُوۡنَ ﴿ۚۖ۲۰﴾
اے لوگو جو ایمان لائے ہو! اللہ کا اور اس کے رسول کا حکم مانو اور اس سے منہ نہ پھیرو، جب کہ تم سن رہے ہو۔ En
اے ایمان والو! خدا اور اس کے رسول کے حکم پر چلو اور اس سے روگردانی نہ کرو اور تم سنتے ہو
En
اے ایمان والو! اللہ کا اور اس کے رسول کا کہنا مانو اور اس (کا کہنا ماننے) سے روگردانی مت کرو سنتے جانتے ہوئے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

چونکہ اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا ہے کہ وہ اہل ایمان کے ساتھ ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا کہ وہ ایمان کے تقاضوں کو پورا کریں جن سے اللہ تعالیٰ کی معیت حاصل ہوتی ہے، چنانچہ فرمایا ﴿ یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَرَسُوْلَهٗ اے ایمان والو، اطاعت کرو اللہ کی اور اس کے رسول کی یعنی ان کے اوامر کی پیروی اور ان کے نواہی سے اجتناب کر کے ﴿ وَلَا تَوَلَّوْا عَنْهُ اور اس سے روگردانی نہ کرو۔ یعنی اس معاملے سے منہ نہ موڑو جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت ہے۔ ﴿ وَاَنْتُمْ تَ٘سْمَعُوْنَ اور تم سنتے ہو۔ حالانکہ تم پر اللہ تعالیٰ کی کتاب، اس کے اوامر، اس کی وصیتوں اور اس کی نصیحتوں کی جو تلاوت کی جاتی ہے، تم اسے سنتے ہو۔ اس حال میں تمھارا اللہ تعالیٰ کی اطاعت سے منہ موڑنا بدترین حال ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

لما أخبر تعالى أنه مع المؤمنين؛ أمرهم أن يقوموا بمقتضى الإيمان الذي يدركون معيَّتَه، فقال: {يا أيُّها الذين آمنوا أطيعوا اللهَ ورسولَه}: بامتثال أمرِهما واجتنابِ نهيِهما. {ولا تَوَلَّوْا عنه}؛ أي: عن هذا الأمر الذي هو طاعة الله وطاعة رسوله، {وأنتم تسمعونَ}: ما يُتلى عليكم من كتاب الله وأوامره ووصاياه ونصائحه؛ فتولِّيكم في هذه الحال من أقبح الأحوال.