تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الأنفال (8) — آیت 18

ذٰلِکُمۡ وَ اَنَّ اللّٰہَ مُوۡہِنُ کَیۡدِ الۡکٰفِرِیۡنَ ﴿۱۸﴾
بات یہ ہے! اور یہ کہ اللہ کافروں کی خفیہ تدبیر کو کمزور کرنے والا ہے۔ En
(بات) یہ (ہے) کچھ شک نہیں کہ خدا کافروں کی تدبیر کو کمزور کر دینے والا ہے
En
(ایک بات تو) یہ ہوئی اور (دوسری بات یہ ہے) اللہ تعالیٰ کو کافروں کی تدبیر کو کمزور کرنا تھا En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ ذٰلِكُمْ یہ فتح و نصرت اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے۔ ﴿ وَاَنَّ اللّٰهَ مُوْهِنُ كَیْدِ الْ٘كٰفِرِیْنَ اور بلاشبہ اللہ کافروں کی تدبیر کو کمزور کردینے والا ہے۔ یعنی کفار اسلام اور مسلمانوں کے خلاف جو مکر و فریب اور سازشیں کرتے ہیں اللہ تعالیٰ ان کی چالوں کو کمزور کرتا ہے اور انھی کو ان کی چالوں میں پھنسا دیتا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{ذلكم}: النصر من الله لكم، {وأنَّ الله موهنُ كيدِ الكافرين}؛ أي: مُضْعِفُ كلَّ مكر وكيد يكيدون به الإسلام وأهله، وجاعلُ مكرهم محيقاً بهم.