تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس دن کی تکذیب کرنے والے کو وعید سناتے ہوئے فرمایا: ﴿ وَیْلٌیَّوْمَىِٕذٍلِّلْمُكَذِّبِیْنَ﴾”اس دن جھٹلانے والوں کی خرابی ہے۔“ یعنی انھیں کتنی حسرت ہو گی، ان کا عذاب کتنا سخت اور ان کا ٹھکانا کتنا برا ہو گا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو آگاہ کیا، ان کے لیے قسم کھائی مگر انھوں نے اسے سچ نہ جانا، اس لیے وہ سخت عذاب کے مستحق ٹھہرے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
ثم توعَّد المكذِّب بهذا اليوم، فقال: {ويلٌ يومئذٍ للمكذِّبينَ}؛ أي: يا حسرتهم وشدَّة عذابهم وسوءَ منقلبهم، أخبرهم الله وأقسم لهم فلم يصدقوه؛ فلذلك استحقُّوا العقوبة البليغةَ.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔