اس آیت کی تفسیر آیت 14 میں تا آیت 16 میں گزر چکی ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
15۔ 1 یعنی ہلاکت ہے بعض کہتے ہیں جہنم کی ایک وادی کا نام ہے، یہ آیت اس سورت میں بار بار دہرائی گئی ہے۔ اس لیے کہ ہر مکذب کا جرم ایک دوسرے سے مختلف نوعیت کا ہوگا اور اسی حساب سے عذاب کی نوعیتیں بھی مختلف ہوں گی، بنابریں اسی ویل کی مختلف قسمیں ہیں جسے مختلف مکذبین کے لیے الگ الگ بیان کیا گیا ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
15۔ اس دن جھٹلانے [9] والوں کے لیے تباہی ہے
[9] تباہی اس لیے کہ اللہ کی آیات کو جھٹلانے والوں کے لیے یہ ایک ناگہانی آفت ہو گی۔ ان کے وہم و گمان میں بھی نہ ہو گا کہ قیامت فی الواقع آ جائے گی اور جب آجائے گی تو انہیں اپنی ہلاکت کے سوا کوئی راہ دکھائی نہ دے گی۔ واضح رہے کہ اس سورت میں یہ آیت متعدد بار ذکر کی گئی ہے اور ہر مقام پر اس کی مناسبت کی وجہ الگ الگ ہے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس دن کی تکذیب کرنے والے کو وعید سناتے ہوئے فرمایا: ﴿ وَیْلٌیَّوْمَىِٕذٍلِّلْمُكَذِّبِیْنَ﴾”اس دن جھٹلانے والوں کی خرابی ہے۔“ یعنی انھیں کتنی حسرت ہو گی، ان کا عذاب کتنا سخت اور ان کا ٹھکانا کتنا برا ہو گا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو آگاہ کیا، ان کے لیے قسم کھائی مگر انھوں نے اسے سچ نہ جانا، اس لیے وہ سخت عذاب کے مستحق ٹھہرے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
ثم توعَّد المكذِّب بهذا اليوم، فقال: {ويلٌ يومئذٍ للمكذِّبينَ}؛ أي: يا حسرتهم وشدَّة عذابهم وسوءَ منقلبهم، أخبرهم الله وأقسم لهم فلم يصدقوه؛ فلذلك استحقُّوا العقوبة البليغةَ.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔