تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
کیا ہم نے جھٹلانے والے گزشتہ لوگوں کو ہلاک نہیں کر ڈالا، پھر ہم آخر میں آنے والے لوگوں کو ان کے بعد ہلاک کریں گے جو جھٹلائیں گے۔ ہر مجرم کے بارے میں اللہ تعالیٰ کی سابقہ سنت بھی یہی ہے اور آئندہ سنت الٰہی بھی یہی ہو گی۔ ان کے لیے سزا حتمی ہے پس تم جو کچھ دیکھتے اور جو کچھ سنتے ہو اس سے عبرت کیوں نہیں پکڑتے؟ ﴿ وَیْلٌیَّوْمَىِٕذٍلِّلْمُكَذِّبِیْنَ﴾”اس دن جھٹلانے والوں کے لے خرابی ہے۔“ جو واضح اور کھلی نشانیوں، عذاب اور عبرتناک سزاؤں کا مشاہدہ کرنے کے بعد بھی جھٹلاتے ہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
أي: أما أهلكنا المكذِّبين السابقين، ثم نتبعهم بإهلاك من كَذَّب من الآخرين، وهذه سنَّتُه السابقة واللاحقة في كلِّ مجرم، لا بدَّ من عقابه ، فلِمَ لا تعتبرون بما ترون وتسمعون؟! {ويلٌ يومئذٍ للمكذِّبين}: بعدما شاهدوا من الآيات البينات والعقوباتِ والمَثُلات.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔