تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ المزمل (73) — آیت 9

رَبُّ الۡمَشۡرِقِ وَ الۡمَغۡرِبِ لَاۤ اِلٰہَ اِلَّا ہُوَ فَاتَّخِذۡہُ وَکِیۡلًا ﴿۹﴾
مشرق و مغرب کا رب ہے، اس کے سوا کوئی معبود نہیں، سو اس کو کارساز بنالے۔ En
مشرق اور مغرب کا مالک (ہے اور) اس کے سوا کوئی معبود نہیں تو اسی کو اپنا کارساز بناؤ
En
مشرق ومغرب کا پروردگار جس کے سوا کوئی معبود نہیں، تو اسی کو اپنا کار ساز بنالے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿رَبُّ الْ٘مَشْرِقِ وَالْ٘مَغْرِبِ یہ اسم جنس ہے جو تمام مشارق و مغارب کو شامل ہے۔ پس اللہ تعالیٰ مشارق و مغارب، ان کے اندر جو انوار اور عالم علوی اور عالم سفلی کے لیے جو مصالح ہیں، سب کا رب،ان کا خالق اور مدبر ہے۔ ﴿لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ اس بالا و بلند تر ہستی کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ اس بات کا مستحق ہے کہ اس کو محبت و تعظیم اور اجلال و تکریم سے مختص کیا جائے۔ بنابریں فرمایا:﴿ فَاتَّؔخِذْهُ وَؔكِیْلًا پس اسے اپنے تمام امور کی تدبیر کرنے والا اور محافظ بنا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{رب المشرق والمغرب}: وهذا اسم جنس؛ يشمل المشارق والمغارب كلَّها؛ فهو تعالى ربُّ المشارق والمغارب، وما يكون فيها من الأنوار، وما هي مصلحةٌ له من العالم العلويِّ والسفليِّ؛ فهو ربُّ كلِّ شيءٍ وخالقُه ومدبِّره. {لا إله إلاَّ هو}؛ أي: لا معبود إلاَّ وجهه الأعلى، الذي يستحقُّ أن يُخَصَّ بالمحبَّة والتعظيم والإجلال والتكريم، ولهذا قال: {فاتَّخِذْه وكيلاً}؛ أي: حافظاً ومدبِّراً لأمورك كلِّها.