تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿وَاذْكُرِاسْمَرَبِّكَ﴾”اور اپنے رب کے نام کا ذکر کرو۔“ یہ ذکر کی تمام انواع کو شامل ہے ﴿ وَتَبَتَّلْاِلَیْهِ﴾”اور سب سے کٹ کر اللہ کی طرف متوجہ ہوجائیے“ یعنی اللہ تعالیٰ سے تعلق پیدا کیجیے کیونکہ اللہ تعالیٰ سے تعلق اور اس کی طرف انابت، قلب کے خلائق سے علیحدہ اور لا تعلق ہونے، اللہ تعالیٰ کی محبت اور ان اوصاف سے متصف ہونے کا نام ہے جو اللہ تعالیٰ کے مقرب بناتے ہیں اور اس کی رضا کے قریب کرتے ہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{واذكرِ اسمَ ربِّك}: شاملٌ لأنواع الذِّكْر كلِّها، {وتَبَتَّلْ إليه تَبتيلاً}؛ أي: انقطع إليه ؛ فإنَّ الانقطاع إلى الله والإنابة إليه هو: الانفصالُ بالقلب عن الخلائق، والاتِّصاف بمحبَّة الله وما يقرِّب إليه ويدني من رضاه.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔