تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ المزمل (73) — آیت 8

وَ اذۡکُرِ اسۡمَ رَبِّکَ وَ تَبَتَّلۡ اِلَیۡہِ تَبۡتِیۡلًا ؕ﴿۸﴾
اور اپنے رب کا نام ذکر کر اور ہر طرف سے منقطع ہو کر اسی کی طرف متوجہ ہو جا۔ En
تو اپنے پروردگار کے نام کا ذکر کرو اور ہر طرف سے بےتعلق ہو کر اسی کی طرف متوجہ ہوجاؤ
En
تو اپنے رب کے نام کا ذکر کیا کر اور تمام خلائق سے کٹ کر اس کی طرف متوجہ ہوجا En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿وَاذْكُرِ اسْمَ رَبِّكَ اور اپنے رب کے نام کا ذکر کرو۔ یہ ذکر کی تمام انواع کو شامل ہے ﴿ وَتَبَتَّلْ اِلَیْهِ اور سب سے کٹ کر اللہ کی طرف متوجہ ہوجائیے یعنی اللہ تعالیٰ سے تعلق پیدا کیجیے کیونکہ اللہ تعالیٰ سے تعلق اور اس کی طرف انابت، قلب کے خلائق سے علیحدہ اور لا تعلق ہونے، اللہ تعالیٰ کی محبت اور ان اوصاف سے متصف ہونے کا نام ہے جو اللہ تعالیٰ کے مقرب بناتے ہیں اور اس کی رضا کے قریب کرتے ہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{واذكرِ اسمَ ربِّك}: شاملٌ لأنواع الذِّكْر كلِّها، {وتَبَتَّلْ إليه تَبتيلاً}؛ أي: انقطع إليه ؛ فإنَّ الانقطاع إلى الله والإنابة إليه هو: الانفصالُ بالقلب عن الخلائق، والاتِّصاف بمحبَّة الله وما يقرِّب إليه ويدني من رضاه.