تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ المزمل (73) — آیت 10

وَ اصۡبِرۡ عَلٰی مَا یَقُوۡلُوۡنَ وَ اہۡجُرۡہُمۡ ہَجۡرًا جَمِیۡلًا ﴿۱۰﴾
اور اس پر صبر کر جو وہ کہتے ہیں اور انھیں چھوڑ دے، خوبصورت طریقے سے چھوڑنا۔ En
اور جو جو (دل آزار) باتیں یہ لوگ کہتے ہیں ان کو سہتے رہو اور اچھے طریق سے ان سے کنارہ کش رہو
En
اور جو کچھ وه کہیں تو سہتا ره اور وضعداری کے ساتھ ان سے الگ تھلگ ره En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

جب اللہ تعالیٰ نے خاص طور پر نماز اور عام طور پر ذکر الٰہی کا حکم دیا ...جس سے بندۂ مومن میں بھاری بوجھ اٹھانے اور پر مشقت اعمال بجا لانے کا ملکہ پیدا ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ نے آپ کو ان باتوں پر صبر کرنے کا حکم دیا جو آپ کے معاندین آپ کو کہتے ہیں اور آپ کو اور جو کچھ آپ لے کر آئے ہیں اس پر سب و شتم کرتے ہیں، نیز یہ کہ آپ اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق چلتے رہیں کوئی روکنے والا آپ کی راہ کھوٹی کر سکے نہ کوئی آپ کو واپس لوٹا سکے اور یہ کہ آپ بھلے طریقے سے ان سے کنارہ کش ہو جائیں اور یہ کنارہ کشی وہاں ہے جہاں مصلحت کنارہ کشی کا تقاضا کرتی ہے جس میں کوئی اذیت نہ ہو بلکہ ان کی تکلیف دہ باتوں سے اعراض کرتے ہوئے، ان سے کنارہ کشی کا معاملہ کریں۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو حکم دیا کہ آپ ان سے اس طریقے سے بحث کریں جو احسن ہو۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

فلما أمره الله بالصَّلاة خصوصاً وبالذِّكر عموماً، وذلك يحصل للعبد مَلَكَةٌ قويةٌ في تحمُّل الأثقال وفعل المُشِقِّ من الأعمال؛ أمره بالصبر على ما يقوله المعاندون له ويسبُّونه ويسبُّون ما جاء به، وأن يمضِيَ على أمر الله؛ لا يصدُّه عنه صادٌّ ولا يردُّه رادٌّ، وأن يَهْجُرَهُم هجراً جميلاً، وهو الهجر حيث اقتضت المصلحةُ [الهجرَ]، الذي لا أذيَّة فيه، بل يعاملهم بالهجر والإعراض عن أقوالهم التي تؤذيه، وأمره بجدالهم بالتي هي أحسن.