(آیت 9) {رَبُّالْمَشْرِقِوَالْمَغْرِبِ …:} یعنی مشر ق و مغرب کا مالک و مربی وہی ہے، ہر وقت اسی کا ذکر کرو، عبادت بھی اسی کی کرو اور بھروسا بھی اسی پر رکھو، جب وہ معبود اور وکیل ہے تو تمام دنیا سے بے پروا ہوجانے میں فکر کس بات کی؟ عبادت و توکل دونوں کو اللہ کے لیے خاص کرنے کا حکم کئی آیات میں آیا ہے، جیسے فرمایا: «فَاعْبُدْهُوَتَوَكَّلْعَلَيْهِ» [ہود: ۱۲۳]”سو اسی کی عبادت کر اور اسی پر بھروسا رکھ۔“ اور فرمایا: «اِيَّاكَنَعْبُدُوَاِيَّاكَنَسْتَعِيْنُ»[الفاتحۃ: ۴]”ہم صرف تیری عبادت کرتے ہیں اور صرف تجھ سے مدد مانگتے ہیں۔“ {”وَكِيْلًا“”وَكَلَيَكِلُ“} (ض) سپرد کرنا۔ وکیل وہ ہے جس کے سپرد کوئی کام کر دیا جائے، یعنی اپنی پوری جدو جہد کے باوجود اعتماد صرف اللہ تعالیٰ پر رکھو اور اپنے تمام کام اسی کے سپرد کر دو۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
9۔ وہ مشرق و مغرب کا مالک ہے، اس کے سوا کوئی الٰہ نہیں لہذا اسے ہی اپنا کارساز [10] بنا لیجیے۔
[10] وکیل کا لفظ ہماری زبان میں بھی ٹھیک اسی مفہوم میں استعمال ہوتا ہے جس میں عربی زبان میں مستعمل ہے۔ ہم جب مقدمہ کی پیروی کے لئے کسی کو اپنا وکیل بنا لیتے ہیں تو سب ذمہ داری اس کے سپرد کر کے خود مطمئن ہو جاتے ہیں۔ یہی بات اللہ تعالیٰ اپنے پیارے پیغمبر سے فرما رہے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خود تو پوری یکسوئی کے ساتھ اللہ کی طرف رجوع ہو جائیے اور اپنے سب معاملات اپنے پروردگار کے سپرد کر دیجیے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے باقی سب معاملات وہ درست کر دے گا۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿رَبُّالْ٘مَشْرِقِوَالْ٘مَغْرِبِ ﴾ یہ اسم جنس ہے جو تمام مشارق و مغارب کو شامل ہے۔ پس اللہ تعالیٰ مشارق و مغارب، ان کے اندر جو انوار اور عالم علوی اور عالم سفلی کے لیے جو مصالح ہیں، سب کا رب،ان کا خالق اور مدبر ہے۔ ﴿لَاۤاِلٰهَاِلَّاهُوَ﴾ اس بالا و بلند تر ہستی کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ اس بات کا مستحق ہے کہ اس کو محبت و تعظیم اور اجلال و تکریم سے مختص کیا جائے۔ بنابریں فرمایا:﴿ فَاتَّؔخِذْهُوَؔكِیْلًا﴾ پس اسے اپنے تمام امور کی تدبیر کرنے والا اور محافظ بنا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{رب المشرق والمغرب}: وهذا اسم جنس؛ يشمل المشارق والمغارب كلَّها؛ فهو تعالى ربُّ المشارق والمغارب، وما يكون فيها من الأنوار، وما هي مصلحةٌ له من العالم العلويِّ والسفليِّ؛ فهو ربُّ كلِّ شيءٍ وخالقُه ومدبِّره. {لا إله إلاَّ هو}؛ أي: لا معبود إلاَّ وجهه الأعلى، الذي يستحقُّ أن يُخَصَّ بالمحبَّة والتعظيم والإجلال والتكريم، ولهذا قال: {فاتَّخِذْه وكيلاً}؛ أي: حافظاً ومدبِّراً لأمورك كلِّها.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔