تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الجن (72) — آیت 6

وَّ اَنَّہٗ کَانَ رِجَالٌ مِّنَ الۡاِنۡسِ یَعُوۡذُوۡنَ بِرِجَالٍ مِّنَ الۡجِنِّ فَزَادُوۡہُمۡ رَہَقًا ۙ﴿۶﴾
اور یہ کہ بات یہ ہے کہ انسانوں میں سے کچھ لوگ جنوں میں سے بعض لوگوں کی پناہ پکڑتے تھے تو انھوں نے ان( جنوں) کو سرکشی میں زیادہ کر دیا۔ En
اور یہ کہ بعض بنی آدم بعض جنات کی پناہ پکڑا کرتے تھے (اس سے) ان کی سرکشی اور بڑھ گئی تھی
En
بات یہ ہے کہ چند انسان بعض جنات سے پناه طلب کیا کرتے تھے جس سے جنات اپنی سرکشی میں اور بڑھ گئے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

یعنی انسان جنوں کی عبادت کرتے تھے اور خوف اور گھبراہٹ کے موقعوں پر جنات کی پناہ لیتے تھے۔ پس انسانوں نے جنات کو زیادہ سرکش بنا دیا، یعنی جب جنوں نے دیکھا کہ انسان ان کی عبادت کرتے ہیں اور ان کی پناہ طلب کرتے ہیں تو اس چیز نے ان کی سرکشی اور تکبر میں اضافہ کر دیا۔ایک احتمال یہ بھی ہے کہ ضمیر جنات کی طرف لوٹتی ہو، یعنی جب جنات نے انسانوں کو دیکھا کہ وہ ان کی پناہ پکڑتے ہیں تو انھوں نے ان کے خوف اور دہشت زدگی میں اور اضافہ کر دیا تاکہ وہ ان کو جنات کی پناہ لینے اور ان کے قول سے تمسک کرنے پر مجبور کریں۔ زمانۂ جاہلیت میں جب انسان کسی خوف ناک وادی میں پڑاؤ کرتا تو کہتا: میں اس وادی کے سردار کی، اس کی قوم کے بیوقوفوں، سے پناہ مانگتا ہوں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

أي: كان الإنس يعوذون بالجنِّ عند المخاوف والأفزاع ويعبُدونهم، فزاد الإنسُ الجنَّ رهقاً؛ أي: طغياناً وتكبراً، لمَّا رأوا الإنس يعبدونَهم ويستعيذون بهم، ويُحتمل أنَّ الضمير وهي الواو ترجع إلى {الجنِّ}؛ أي: زاد الجنُّ الإنسَ ذُعْراً وتخويفاً لما رأوْهم يستعيذون بهم ليلجِئوهم إلى الاستعاذة بهم والتمسُّك بما هم عليه، فكان الإنسيُّ إذا نزل بوادٍ مخوفٍ؛ قال: أعوذ بسيِّد هذا الوادي من سفهاء قومه.