(آیت 6) {وَاَنَّهٗكَانَرِجَالٌمِّنَالْاِنْسِ …:} عرب کے بعض مشرک جب کسی خوفناک جگہ یعنی جنگل وغیرہ میں جاتے تو کہتے کہ ہم اس علاقے میں جو جنوں کا سردار ہے، اس کی پناہ میں آتے ہیں۔ اس سے جنوں کی سرکشی اور بڑھ گئی، کیونکہ وہ جان گئے کہ انسان ہم سے ڈرتے ہیں، اس لیے انھوں نے اپنے ماننے والوں کو اور زیادہ ڈرانا شروع کر دیا۔ معلوم ہوا آدمی کو نہ جنوں سے ڈرنا چاہیے، نہ ان کی پناہ مانگنی چاہیے اور نہ کسی غیر اللہ کی دہائی دینی چاہیے، کیونکہ یہ شرک ہے، بلکہ صرف اور صرف اللہ کی پناہ مانگنی چاہیے۔ کسی بھی چیز کے شر سے پناہ مانگنے کے لیے قرآن مجید کی آخری دو سورتوں جیسی کوئی چیز نہیں۔ مزید وضاحت کے لیے ان دو سورتوں کی تفسیر دیکھیں۔ خولہ بنت حکیم رضی اللہ عنھا نے فرمایا کہ انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ فرما رہے تھے: [إِذَانَزَلَأَحَدُكُمْمَنْزِلًافَلْيَقُلْأَعُوْذُبِكَلِمَاتِاللّٰهِالتَّامَّاتِمِنْشَرِّمَاخَلَقَ،فَإِنَّهُلَايَضُرُّهُشَيْءٌحَتّٰیيَرْتَحِلَمِنْهُ][مسلم، الذکر و الدعاء، باب في التعوذ من سوء القضاء…: ۵۵ /۲۷۰۸]”جب تم میں سے کوئی شخص کسی منزل میں اترے تو اسے یہ کلمات کہنے چاہییں، تو اسے وہاں سے کوچ کرنے تک کوئی چیز نقصان نہیں پہنچائے گی: [أَعُوْذُبِكَلِمَاتِاللّٰهِالتَّامَّاتِمِنْشَرِّمَاخَلَقَ]”میں اللہ کے کامل کلمات کی پناہ پکڑتا ہوں ہر اس چیز کے شر سے جو اس نے پیدا کی۔“
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
6۔ 1 یعنی جب جنات نے یہ دیکھا کہ انسان ہم سے ڈرتے ہیں اور ہماری پناہ طلب کرتے ہیں تو ان کی سرکشی اور تکبر میں اضافہ ہوگیا۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
6۔ اور یہ کہ انسانوں میں سے کچھ لوگ جنوں کے کچھ لوگوں کی پناہ مانگا کرتے تھے چنانچہ انہوں [5] نے جنوں کے غرور کو اور زیادہ بڑھا دیا تھا
[5] انسانوں کا جنوں سے پناہ مانگنا :۔
عہد جاہلیت میں اکثر لوگوں کا یہ عقیدہ بن چکا تھا کہ ہر غیر آباد جگہ جنوں کا مسکن ہوتا ہے۔ اور ان میں بھی انسانوں کی طرح بعض جن دوسروں کے سردار اور بادشاہ ہوتے ہیں۔ جو وہاں حکومت کرتے ہیں اور اگر کسی انسان کا ایسے علاقہ میں گزر ہو اور اس جن کی پناہ مانگے بغیراس جگہ میں رہائش پذیر ہو جائے جس کے قبضہ میں یہ غیر آباد جگہ ہے تو وہ حاکم جن ایسے انسان یا انسانوں کو علاقہ غیر میں داخل ہونے کی بنا پر سزا دینے اور تکلیف پہنچانے کا حق رکھتا ہے خواہ وہ خود ایسی سزا دے دے یا اپنے ماتحت جنوں سے دلوا دے چنانچہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ جاہلیت کے زمانہ میں عرب جب کسی سنسان وادی میں رات گزارتے تو پکار کر کہتے کہ ہم اس وادی کے مالک جن کی پناہ مانگتے ہیں، گویا انسان کی اوہام پرستی کا یہ عالم تھی کہ اللہ نے تو اسے اشرف المخلوقات اور جنوں سے بھی افضل پیدا کیا تھا لیکن اس زمین کے خلیفہ انسان نے الٹا جنوں سے ڈرنا اور ان سے پناہ مانگنا شروع کر دیا۔ جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ جنوں کا دماغ اور زیادہ خراب ہو گیا اور وہ واقعی اپنے آپ کو انسان سے افضل سمجھنے لگے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
یعنی انسان جنوں کی عبادت کرتے تھے اور خوف اور گھبراہٹ کے موقعوں پر جنات کی پناہ لیتے تھے۔ پس انسانوں نے جنات کو زیادہ سرکش بنا دیا، یعنی جب جنوں نے دیکھا کہ انسان ان کی عبادت کرتے ہیں اور ان کی پناہ طلب کرتے ہیں تو اس چیز نے ان کی سرکشی اور تکبر میں اضافہ کر دیا۔ایک احتمال یہ بھی ہے کہ ضمیر جنات کی طرف لوٹتی ہو، یعنی جب جنات نے انسانوں کو دیکھا کہ وہ ان کی پناہ پکڑتے ہیں تو انھوں نے ان کے خوف اور دہشت زدگی میں اور اضافہ کر دیا تاکہ وہ ان کو جنات کی پناہ لینے اور ان کے قول سے تمسک کرنے پر مجبور کریں۔ زمانۂ جاہلیت میں جب انسان کسی خوف ناک وادی میں پڑاؤ کرتا تو کہتا: ”میں اس وادی کے سردار کی، اس کی قوم کے بیوقوفوں، سے پناہ مانگتا ہوں۔“
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
أي: كان الإنس يعوذون بالجنِّ عند المخاوف والأفزاع ويعبُدونهم، فزاد الإنسُ الجنَّ رهقاً؛ أي: طغياناً وتكبراً، لمَّا رأوا الإنس يعبدونَهم ويستعيذون بهم، ويُحتمل أنَّ الضمير وهي الواو ترجع إلى {الجنِّ}؛ أي: زاد الجنُّ الإنسَ ذُعْراً وتخويفاً لما رأوْهم يستعيذون بهم ليلجِئوهم إلى الاستعاذة بهم والتمسُّك بما هم عليه، فكان الإنسيُّ إذا نزل بوادٍ مخوفٍ؛ قال: أعوذ بسيِّد هذا الوادي من سفهاء قومه.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔