تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الجن (72) — آیت 5

وَّ اَنَّا ظَنَنَّاۤ اَنۡ لَّنۡ تَقُوۡلَ الۡاِنۡسُ وَ الۡجِنُّ عَلَی اللّٰہِ کَذِبًا ۙ﴿۵﴾
اور یہ کہ ہم نے گمان کیا کہ انسان اور جن اللہ پر ہرگز کوئی جھوٹ نہیں بولیں گے۔ En
اور ہمارا (یہ) خیال تھا کہ انسان اور جن خدا کی نسبت جھوٹ نہیں بولتے
En
اور ہم تو یہی سمجھتے رہے کہ ناممکن ہے کہ انسانوں اور جنات اللہ پر جھوٹی باتیں لگائیں En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

یعنی اس سے پہلے ہم دھوکے میں مبتلا تھے، انسانوں اور جنات میں سے ہمارے سرداروں اور رؤ ساء نے ہمیں دھوکے میں ڈال رکھا تھا۔ ہمیں ان پر یقین تھا۔ ہم ان کے بارے میں سمجھتے تھے کہ وہ اللہ تعالیٰ پر جھوٹ بولنے کی جرأت نہیں کرتے، اس لیے اس سے قبل ہم ان کے طریقے پر گامزن تھے، آج حق ہم پر واضح ہو چکا ہے، ہم اس کے راستے پر چل رہے ہیں اور ہم نے اس کے سامنے سر تسلیم خم کر دیا ہے، ہمیں مخلوق میں سے کسی کے ایسے قول کی کوئی پروا نہیں جو ہدایت کے منافی ہو۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

أي: كنَّا مغترِّين قبل ذلك، غرَّتنا السادة والرؤساء من الجنِّ والإنس، فأحسنَّا بهم الظنَّ، وحسبناهم لا يتجرؤون على الكذب على الله؛ فلذلك كنَّا قبل ذلك على طريقهم؛ فاليوم إذ بان لنا الحقُّ؛ سلكنا طريقه ، وانقَدْنا له، ولم نبالِ بقول أحدٍ من الخلق يعارض الهدى.