تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
یعنی وہ صواب سے ہٹی ہوئی اور حد سے گزری ہوئی بات کہتا ہے اور صرف اس کی سفاہت اور عقل کی کمزوری نے اسے ایسا کرنے پر آمادہ کیا ہے۔ ورنہ اگر وہ سنجیدہ اور مطمئن ہوتا تو اسے معلوم ہوتا کہ کیسے بات کہنی ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{وأنَّه كان يقولُ سفيهُنا على الله شططاً}؛ أي: قولاً جائراً عن الصواب متعدياً للحدِّ، وما حمله على ذلك إلاَّ سفهُه وضعفُ عقله، وإلاَّ؛ فلو كان رزيناً مطمئناً؛ لعرف كيف يقول.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔