تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الجن (72) — آیت 4

وَّ اَنَّہٗ کَانَ یَقُوۡلُ سَفِیۡہُنَا عَلَی اللّٰہِ شَطَطًا ۙ﴿۴﴾
اور یہ کہ بات یہ ہے کہ ہمارا بے وقوف اللہ پر زیادتی کی بات کہتا تھا۔ En
اور یہ کہ ہم میں سے بعض بےوقوف خدا کے بارے میں جھوٹ افتراء کرتا ہے
En
اور یہ کہ ہم میں کا بیوقوف اللہ کے بارے میں خلاف حق باتیں کہا کرتا تھا En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

یعنی وہ صواب سے ہٹی ہوئی اور حد سے گزری ہوئی بات کہتا ہے اور صرف اس کی سفاہت اور عقل کی کمزوری نے اسے ایسا کرنے پر آمادہ کیا ہے۔ ورنہ اگر وہ سنجیدہ اور مطمئن ہوتا تو اسے معلوم ہوتا کہ کیسے بات کہنی ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{وأنَّه كان يقولُ سفيهُنا على الله شططاً}؛ أي: قولاً جائراً عن الصواب متعدياً للحدِّ، وما حمله على ذلك إلاَّ سفهُه وضعفُ عقله، وإلاَّ؛ فلو كان رزيناً مطمئناً؛ لعرف كيف يقول.