(آیت 5) {وَاَنَّاظَنَنَّاۤاَنْلَّنْتَقُوْلَالْاِنْسُوَالْجِنُّ …:} یعنی ہم یہی سمجھتے تھے کہ انسان اور جن کم از کم اللہ پر تو ہر گز جھوٹ نہیں باندھ سکتے، اس لیے ہم نے ان سے سن کر مان لیا کہ اللہ کے کچھ شریک ہیں اور اس کی اولاد اور بیوی بھی ہے۔ اب معلوم ہوا کہ یہ ظالم جھوٹے تھے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
5۔ 1 اسی لئے ہم اس کی تصدیق کرتے رہے اور اللہ کے بارے میں یہ عقیدہ رکھے رہے۔ حتٰی کہ ہم نے قرآن سنا تو پھر ہم پر اس عقیدے کا باطل ہونا واضع ہوا۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
5۔ اور یہ کہ ہم نے تو یہ سمجھ رکھا تھا کہ انسان اور جن اللہ کے بارے میں کبھی جھوٹ نہیں بول [4] سکتے
[4] یعنی جنوں اور انسانوں کی عظیم اکثریت اگر یہ باتیں کہتی ہے کہ اللہ کی بیوی اور اولاد ہے یا فرشتے اس کی بیٹیاں ہیں یا اللہ نے اپنے پیاروں کو بھی کئی قسم کے اختیارات تفویض کر رکھے ہیں تو وہ جھوٹ کیسے ہو سکتا ہے۔ اتنی عظیم اکثریت جھوٹی بات پر کیسے اتفاق کر سکتی ہے۔ لہٰذا ہم نے بھی ان باتوں کو درست تسلیم کر لیا۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
یعنی اس سے پہلے ہم دھوکے میں مبتلا تھے، انسانوں اور جنات میں سے ہمارے سرداروں اور رؤ ساء نے ہمیں دھوکے میں ڈال رکھا تھا۔ ہمیں ان پر یقین تھا۔ ہم ان کے بارے میں سمجھتے تھے کہ وہ اللہ تعالیٰ پر جھوٹ بولنے کی جرأت نہیں کرتے، اس لیے اس سے قبل ہم ان کے طریقے پر گامزن تھے، آج حق ہم پر واضح ہو چکا ہے، ہم اس کے راستے پر چل رہے ہیں اور ہم نے اس کے سامنے سر تسلیم خم کر دیا ہے، ہمیں مخلوق میں سے کسی کے ایسے قول کی کوئی پروا نہیں جو ہدایت کے منافی ہو۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
أي: كنَّا مغترِّين قبل ذلك، غرَّتنا السادة والرؤساء من الجنِّ والإنس، فأحسنَّا بهم الظنَّ، وحسبناهم لا يتجرؤون على الكذب على الله؛ فلذلك كنَّا قبل ذلك على طريقهم؛ فاليوم إذ بان لنا الحقُّ؛ سلكنا طريقه ، وانقَدْنا له، ولم نبالِ بقول أحدٍ من الخلق يعارض الهدى.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔