تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿ وَّاَنَّهٗتَ٘عٰ٘لٰىجَدُّرَبِّنَا﴾ یعنی اس کی عظمت بلند و بالا اور اس کے نام مقدس ہیں ﴿ مَااتَّؔخَذَصَاحِبَةًوَّلَاوَلَدًا﴾”اس نے کسی کو اپنی بیوی بنایا ہے نہ بیٹا“ پس وہ اللہ تعالیٰ کی بزرگی اور اس کی عظمت سے جان گئے جس سے اس شخص کا ابطال ہوتا ہے جو سمجھتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی بیوی یا اس کی اولاد ہے کیونکہ وہ ہر صفت کمال میں عظمت و کمال کا مالک ہے جبکہ بیوی اور بیٹا بنانا اس کے منافی ہے کیونکہ یہ کمال غنا کی ضد ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{وأنَّه تعالى جَدُّ رَبِّنا}؛ أي: تعالت عظمتُه وتقدَّسَتْ أسماؤُه، {ما اتَّخَذَ صاحبةً ولا ولداً}: فعلموا من جَدِّ الله وعظمتِهِ ما دلَّهم على بطلان مَنْ يزعُمُ أنَّ له صاحبةً أو ولداً؛ لأنَّ له العظمة والجلال في كلِّ صفة كمال، واتِّخاذُ الصاحبة والولد ينافي ذلك؛ لأنَّه يضادُّ كمال الغنى.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔