تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الجن (72) — آیت 3

وَّ اَنَّہٗ تَعٰلٰی جَدُّ رَبِّنَا مَا اتَّخَذَ صَاحِبَۃً وَّ لَا وَلَدًا ۙ﴿۳﴾
اور یہ کہ بات یہ ہے کہ ہمارے رب کی شان بہت بلند ہے، اس نے نہ کوئی بیوی بنائی ہے اور نہ کوئی اولاد۔ En
اور یہ کہ ہمارے پروردگار کی عظمت (شان) بہت بڑی ہے اور وہ نہ بیوی رکھتا ہے نہ اولاد
En
اور بیشک ہمارے رب کی شان بڑی بلند ہے نہ اس نے کسی کو (اپنی) بیوی بنایا ہے نہ بیٹا En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ وَّاَنَّهٗ تَ٘عٰ٘لٰى جَدُّ رَبِّنَا یعنی اس کی عظمت بلند و بالا اور اس کے نام مقدس ہیں ﴿ مَا اتَّؔخَذَ صَاحِبَةً وَّلَا وَلَدًا اس نے کسی کو اپنی بیوی بنایا ہے نہ بیٹا پس وہ اللہ تعالیٰ کی بزرگی اور اس کی عظمت سے جان گئے جس سے اس شخص کا ابطال ہوتا ہے جو سمجھتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی بیوی یا اس کی اولاد ہے کیونکہ وہ ہر صفت کمال میں عظمت و کمال کا مالک ہے جبکہ بیوی اور بیٹا بنانا اس کے منافی ہے کیونکہ یہ کمال غنا کی ضد ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{وأنَّه تعالى جَدُّ رَبِّنا}؛ أي: تعالت عظمتُه وتقدَّسَتْ أسماؤُه، {ما اتَّخَذَ صاحبةً ولا ولداً}: فعلموا من جَدِّ الله وعظمتِهِ ما دلَّهم على بطلان مَنْ يزعُمُ أنَّ له صاحبةً أو ولداً؛ لأنَّ له العظمة والجلال في كلِّ صفة كمال، واتِّخاذُ الصاحبة والولد ينافي ذلك؛ لأنَّه يضادُّ كمال الغنى.