تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الجن (72) — آیت 2

یَّہۡدِیۡۤ اِلَی الرُّشۡدِ فَاٰمَنَّا بِہٖ ؕ وَ لَنۡ نُّشۡرِکَ بِرَبِّنَاۤ اَحَدًا ۙ﴿۲﴾
جو سیدھی راہ کی طرف لے جاتا ہے تو ہم اس پر ایمان لے آئے اور (اب) ہم اپنے رب کے ساتھ کسی کو کبھی شریک نہیں کریںگے۔ En
جو بھلائی کا رستہ بتاتا ہے سو ہم اس پر ایمان لے آئے۔ اور ہم اپنے پروردگار کے ساتھ کسی کو شریک نہیں بنائیں گے
En
جو راه راست کے طرف رہنمائی کرتا ہے۔ ہم اس پر ایمان ﻻ چکے (اب) ہم ہرگز کسی کو بھی اپنے رب کا شریک نہ بنائیں گے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿یَّهْدِیْۤ اِلَى الرُّشْدِ وہ (قرآن) رشد کی طرف ہدایت کرتا ہے۔ (رُشْدٌ) ہر اس چیز کے لیے جامع نام ہے جو لوگوں کے دین و دنیا کے مصالح کی طرف ان کی راہ نمائی کرے ﴿فَاٰمَنَّا بِهٖ١ؕ وَلَ٘نْ نُّشْ٘رِكَ بِرَبِّنَاۤ اَحَدًا تو ہم اس پر ایمان لے آئے اور ہم اپنے رب کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرائیں گے۔ پس انھوں نے ایمان کو، جس میں اعمال خیر داخل ہیں اور تقویٰ کو، جو ہر قسم کے شر کو ترک کرنے کو متضمن ہے، جمع کر لیا۔ انھوں نے اس کا سبب جس نے ان کو ایمان اور اس کے توابع کی طرف دعوت دی، قرآن کے ان ارشادات کو قرار دیا جن کا ان کو علم ہوا جو مصالح اور فوائد پر مشتمل اور ضرر سے خالی ہیں۔ یہ اس شخص کے لیے بہت بڑی دلیل اور قطعی حجت ہے جو اس سے روشنی حاصل کرتا ہے اور اس کے طریقے کو راہنما بناتا ہے۔یہی وہ ایمان ہے جو نفع مند ہے جو ہر بھلائی سے بہرہ مند کرتا ہے اور جو ہدایت قرآن پر مبنی ہے، برعکس عادی، پیدائشی اور رواجی ایمان کے، کیونکہ یہ تقلیدی ایمان ہے جو شبہات کے خطرات اور بے شمار عوارض میں گھرا ہوا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{يهدي إلى الرُّشْدِ}: والرُّشدُ: اسمٌ جامعٌ لكلِّ ما يرشد الناس إلى مصالح دينهم ودنياهم، {فآمنَّا به ولن نُشْرِكَ بربِّنا أحداً}: فجمعوا بين الإيمان الذي يدخُلُ فيه جميع أعمال الخير، وبين التَّقوى المتضمِّنة لترك الشرِّ، وجعلوا السبب الداعي لهم إلى الإيمان وتوابعه ما علموه من إرشادات القرآن، وما اشتمل عليه من المصالح والفوائد واجتناب المضارِّ؛ فإنَّ ذلك آيةٌ عظيمةٌ وحجَّةٌ قاطعةٌ لمن استنار به واهتدى بهديه، وهذا الإيمانُ النافع المثمر لكلِّ خير، المبنيُّ على هداية القرآن؛ بخلاف إيمان العوائد والمَرْبى والإلف ونحو ذلك؛ فإنَّه إيمانُ تقليدٍ تحت خطر الشُّبُهات والعوارض الكثيرة.