(آیت 3) {وَاَنَّهٗتَعٰلٰىجَدُّرَبِّنَا …:} ”اور یہ کہ ہمارے رب کی شان بہت بلند ہے“ یعنی ہم اس پر بھی ایمان لے آئے کہ ہمارے رب کی شان بہت بلند ہے۔یہ جن تثلیث کو ماننے والے نصرانی تھے یا کسی ایسے مذہب کو ماننے والے تھے جس میں اللہ تعالیٰ کی بیوی اور اولاد مانی جاتی ہے۔ اب انھیں معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ کی شان تو اس سے بہت بلند ہے کہ اس کی بیوی ہو یا اولاد ہو۔ بیوی ماننے سے وہ بلند شان والا نہیں بلکہ محتاج ٹھہرتا ہے، کیونکہ خاوند شہوت کے ہاتھوں اس کا محتاج ہوتا ہے اور اولاد بھی اسی شہوت کا نتیجہ ہے جو اسے بیوی کے پاس جانے پر مجبور کرتی ہے، تو پھر شان کیا بلند رہی۔ (طبری)
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
3۔ 1 یعنی ہمارے رب کی شان اس سے بہت بلند ہے کہ اس کی اولاد یا بیوی ہو۔ گویا جنوں نے ان مشرکوں کی غلطی کو واضح کیا جو اللہ کی طرف بیوی یا اولاد کی نسبت کرتے تھے، انہوں نے ان دونوں کمزویوں سے رب کی پاکی بیان کی۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
3۔ اور ہمارے پروردگار کی شان بڑی بلند ہے۔ اس [2] نے کسی کو بیوی یا بیٹا نہیں بنایا
[2] قرآن سننے والے جنوں کی اپنی قوم کو تبلیغ :۔
آیت نمبر 2 اور 3 سے معلوم ہوتا ہے کہ اس موقعہ پر قرآن سننے والے جن مشرک تھے اور ان میں کچھ ایسے بھی تھے جو عیسائیوں کے عقیدہ تثلیث سے بھی متاثر تھے۔ قرآن کا بیان سن کر انہیں معلوم ہوا کہ اللہ کی ذات بیوی بیٹوں کی احتیاج سے پاک ہے۔ اور اس کے متعلق ایسا تصور رکھنا سخت گمراہ کن عقیدہ ہے۔ لہٰذا ہم ایسے عقیدہ و خیالات سے توبہ کر کے اللہ اکیلے پر ایمان لاتے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿ وَّاَنَّهٗتَ٘عٰ٘لٰىجَدُّرَبِّنَا﴾ یعنی اس کی عظمت بلند و بالا اور اس کے نام مقدس ہیں ﴿ مَااتَّؔخَذَصَاحِبَةًوَّلَاوَلَدًا﴾”اس نے کسی کو اپنی بیوی بنایا ہے نہ بیٹا“ پس وہ اللہ تعالیٰ کی بزرگی اور اس کی عظمت سے جان گئے جس سے اس شخص کا ابطال ہوتا ہے جو سمجھتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی بیوی یا اس کی اولاد ہے کیونکہ وہ ہر صفت کمال میں عظمت و کمال کا مالک ہے جبکہ بیوی اور بیٹا بنانا اس کے منافی ہے کیونکہ یہ کمال غنا کی ضد ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{وأنَّه تعالى جَدُّ رَبِّنا}؛ أي: تعالت عظمتُه وتقدَّسَتْ أسماؤُه، {ما اتَّخَذَ صاحبةً ولا ولداً}: فعلموا من جَدِّ الله وعظمتِهِ ما دلَّهم على بطلان مَنْ يزعُمُ أنَّ له صاحبةً أو ولداً؛ لأنَّ له العظمة والجلال في كلِّ صفة كمال، واتِّخاذُ الصاحبة والولد ينافي ذلك؛ لأنَّه يضادُّ كمال الغنى.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔