تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ المعارج (70) — آیت 33

وَ الَّذِیۡنَ ہُمۡ بِشَہٰدٰتِہِمۡ قَآئِمُوۡنَ ﴿۪ۙ۳۳﴾
اور وہ جو اپنی گواہیوں پر قائم رہنے والے ہیں۔ En
اور جو اپنی شہادتوں پر قائم رہتے ہیں
En
اور جو اپنی گواہیوں پر سیدھے اور قائم رہتے ہیں En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ وَالَّذِیْنَ هُمْ بِشَهٰؔدٰؔتِهِمْ قَآىِٕمُوْنَ یعنی وہ کسی کمی بیشی اور کچھ چھپائے بغیر صرف اسی بات کی گواہی دیتے ہیں جسے وہ جانتے ہیں، وہ گواہی میں کسی رشتہ کی رعایت رکھتے ہیں نہ کسی دوست وغیرہ کی۔ ان کے نزدیک، اس گواہی کو قائم کرنے کا مقصد صرف اللہ تعالیٰ کی رضا کا حصول ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿ وَاَ٘قِیْمُوا الشَّهَادَةَ لِلّٰهِ (الطلاق:65؍2) اللہ تعالیٰ کے لیے گواہی کو قائم کرو۔ اور فرمایا:﴿ یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا كُوْنُوْا قَوّٰمِیْنَ بِالْقِسْطِ شُهَدَآءَؔ لِلّٰهِ وَلَوْ عَلٰۤى اَنْفُسِكُمْ اَوِ الْوَالِدَیْنِ وَالْاَقْ٘رَبِیْنَ (النساء:4؍135) اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو! انصاف پر قائم رہنے والے بن جاؤ، اللہ کے لیے گواہی دو، خواہ یہ گواہی خود تمھارے خلاف، تمھارے والدین اور قریبی رشتہ داروں کے خلاف ہی کیوں نہ ہو۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{والذين هم بشهادتهم قائمونَ}؛ أي: لا يشهدون إلاَّ بما يعلمونه من غير زيادةٍ ولا نقصٍ ولا كتمانٍ، ولا يحابي فيها قريباً ولا صديقاً ونحوه، ويكون القصد بإقامتها وجه الله؛ قال تعالى: {وأقيموا الشهادةَ لله}، {يا أيُّها الذين آمنوا كونوا قوَّامينَ بالقِسطِ شهداءَ لله ولو على أنفسِكُم أوِ الوالِدَيْن والأقربين}.