ترجمہ و تفسیر — سورۃ المعارج (70) — آیت 33

وَ الَّذِیۡنَ ہُمۡ بِشَہٰدٰتِہِمۡ قَآئِمُوۡنَ ﴿۪ۙ۳۳﴾
اور وہ جو اپنی گواہیوں پر قائم رہنے والے ہیں۔ En
اور جو اپنی شہادتوں پر قائم رہتے ہیں
En
اور جو اپنی گواہیوں پر سیدھے اور قائم رہتے ہیں En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 33) {وَ الَّذِيْنَ هُمْ بِشَهٰدٰتِهِمْ قَآىِٕمُوْنَ:} شہادتوں پر قائم ہونے کا مطلب یہ ہے کہ وہ حق کی شہادت نہ چھپاتے ہیں، نہ ادا کرنے سے انکار کرتے ہیں، نہ جھوٹی شہادت دیتے ہیں اور نہ شہادت کی ادائیگی کے وقت اس میں کوئی ہیرا پھیری کرتے ہیں، کیونکہ یہ سب کام نفاق و کفر کے کام ہیں۔ شهادات میں ایمان، توحید و رسالت اور لوگوں کے باہمی معاملات غرض ہر حق بات کی شہادت شامل ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

33۔ 1 یعنی اسے صحیح صحیح ادا کرتے ہیں چاہے اس کی زد میں ان کے قریبی عزیز ہی آجائیں علاوہ ازیں اسے چھپاتے بھی نہیں، نہ اس میں تبدیلی ہی کرتے ہیں۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

33۔ اور جو اپنی شہادتوں [20] پر (راست بازی) سے قائم رہتے ہیں
[20] شہادت کا مفہوم، اہمیت اور شہادت پر قائم رہنے کی تاکید :۔
شہادت اس بیان کو کہتے ہیں جو ایک گواہ، خواہ وہ عینی گواہ ہو یا بعض حقائق کو علم کی حد تک جانتا ہو جسے قلبی شہادت کہتے ہیں، عدالت میں حاضر ہو کر قاضی کے سامنے دیتا ہے۔ اور قاضی اور عدالت سے مراد ہر وہ فرد یا ادارہ ہے جو فیصلہ کرنے کے بعد اپنے فیصلہ کو نافذ کرنے کی قدرت بھی رکھتا ہو۔ عدالتوں کے ہاں یہ قوت نافذہ پولیس ہوتی ہے۔ اسی طرح کسی فیصلہ کرنے والی پنچائت یا کونسل کو بھی عدالت کہہ سکتے ہیں اور کوئی گواہ کسی بے تعلق آدمی کے سامنے وہی بیان دے جو وہ عدالت میں دینے کا ارادہ رکھتا ہے۔ تو ایسے بیان دینے کو شہادت نہیں کہیں گے۔ چونکہ شریعت نے فیصلہ کا انحصار شہادتوں پر رکھا ہے۔ اور قاضی شہادتوں سے باہر ہو کر فیصلہ نہیں دے سکتا حتیٰ کہ فوجداری مقدمات میں اپنے ذاتی علم کی بنا پر بھی فیصلہ نہیں دے سکتا۔ اس لئے ایک گواہ کی شہادت بڑی اہمیت کی حامل ہوتی ہے۔ اسی لئے قرآن میں بے شمار مقامات پر شہادت صاف صاف دینے اور اس پر قائم رہنے کی بڑی تاکید آئی ہے۔ اس کے مقابلہ میں شہادت الزور کو کبیرہ گناہ قرار دیا گیا ہے۔ شہادت کا کچھ حصہ چھپا جانا، یا عند الضرورت شہادت سے انکار کر دینا یا خاموش رہنا اور کچھ بھی بیان نہ دینا یا بیان کو گول مول کر جانا یا اس بیان کو اس طرح توڑ موڑ کر یا ہیر پھیر کر بیان کرنا جس سے مجرم بچ جائے یا کسی بھی فریق کی حق تلفی ہو رہی ہو یا جانبداری سے کام لے کر اس کے جرم سے زیادہ سزا دلوانے کی کوشش کی جائے یہ سب صورتیں حرام، گناہ کبیرہ اور شہادۃ الزور کے ضمن میں آتی ہیں۔ گویا ایمانداروں کی ایک نہایت اعلیٰ صفت یہ بھی ہے کہ وہ صاف سیدھی شہادت پر قائم رہتے ہیں۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ وَالَّذِیْنَ هُمْ بِشَهٰؔدٰؔتِهِمْ قَآىِٕمُوْنَ یعنی وہ کسی کمی بیشی اور کچھ چھپائے بغیر صرف اسی بات کی گواہی دیتے ہیں جسے وہ جانتے ہیں، وہ گواہی میں کسی رشتہ کی رعایت رکھتے ہیں نہ کسی دوست وغیرہ کی۔ ان کے نزدیک، اس گواہی کو قائم کرنے کا مقصد صرف اللہ تعالیٰ کی رضا کا حصول ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿ وَاَ٘قِیْمُوا الشَّهَادَةَ لِلّٰهِ (الطلاق:65؍2) اللہ تعالیٰ کے لیے گواہی کو قائم کرو۔ اور فرمایا:﴿ یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا كُوْنُوْا قَوّٰمِیْنَ بِالْقِسْطِ شُهَدَآءَؔ لِلّٰهِ وَلَوْ عَلٰۤى اَنْفُسِكُمْ اَوِ الْوَالِدَیْنِ وَالْاَقْ٘رَبِیْنَ (النساء:4؍135) اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو! انصاف پر قائم رہنے والے بن جاؤ، اللہ کے لیے گواہی دو، خواہ یہ گواہی خود تمھارے خلاف، تمھارے والدین اور قریبی رشتہ داروں کے خلاف ہی کیوں نہ ہو۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{والذين هم بشهادتهم قائمونَ}؛ أي: لا يشهدون إلاَّ بما يعلمونه من غير زيادةٍ ولا نقصٍ ولا كتمانٍ، ولا يحابي فيها قريباً ولا صديقاً ونحوه، ويكون القصد بإقامتها وجه الله؛ قال تعالى: {وأقيموا الشهادةَ لله}، {يا أيُّها الذين آمنوا كونوا قوَّامينَ بالقِسطِ شهداءَ لله ولو على أنفسِكُم أوِ الوالِدَيْن والأقربين}.