تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ المعارج (70) — آیت 32

وَ الَّذِیۡنَ ہُمۡ لِاَمٰنٰتِہِمۡ وَ عَہۡدِہِمۡ رٰعُوۡنَ ﴿۪ۙ۳۲﴾
اور وہ جو اپنی امانتوں کا اور اپنے عہد کا لحاظ رکھنے والے ہیں۔ En
اور جو اپنی امانتوں اور اقراروں کا پاس کرتے ہیں
En
اور جو اپنی امانتوں کا اور اپنے قول و قرار کا پاس رکھتے ہیں En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ وَالَّذِیْنَ هُمْ لِاَمٰنٰتِهِمْ وَعَهْدِهِمْ رٰعُوْنَ یعنی وہ امانتوں اور عہد کی رعایت رکھنے اور حفاظت کرنے والے ہیں، امانتوں کو ادا کرنے اور عہد کو پورا کرنے کی بھرپور کوشش کرتے ہیں۔ یہ آیت کریمہ ان تمام امانتوں کو شامل ہے جو بندے اور اس کے رب کے درمیان ہیں جیسے وہ پوشیدہ امور جن کا انسان مکلف بنایا گیا ہے اورانھیں اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا اوروہ امانتیں جواموال اور اسرار کے بارے میں ہیں جو آپس میں بندوں کے مابین ہیں۔
اسی طرح یہ عہد اس عہد کو بھی شامل ہے جو اس نے اللہ تعالیٰ سے کیا ہے اور اس عہد کو بھی شامل ہے جو اس نے مخلوق سے کیا ہے۔ کیونکہ عہد کے بارے میں بندے سے پوچھا جائے گا کہ آیا وہ اس عہد پر قائم رہا اور اسے پورا کیا یا اس نے اسے دور پھینک دیا، اس میں خیانت کی اور اس پر قائم نہ رہا؟
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{والذين هم لأماناتهم وعهدِهِم راعونَ}؛ أي: مراعون لها حافظون مجتهدون على أدائها والوفاء بها، وهذا شاملٌ لجميع الأمانات التي بين العبد وبين ربِّه؛ كالتكاليف السِّرِّيَّة التي لا يطَّلع عليها إلاَّ اللهُ، والأمانات التي بيْن العبد وبيْن الخلق في الأموال والأسرار، وكذلك العهد شاملٌ للعهد الذي عاهد عليه الله، والعهد الذي عاهد الخلق عليه ؛ فإنَّ العهد يُسأل عنه العبد؛ هل قام به ووفَّاه أم رفضه وخانه فلم يقم به.