تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الأعراف (7) — آیت 6

فَلَنَسۡـَٔلَنَّ الَّذِیۡنَ اُرۡسِلَ اِلَیۡہِمۡ وَ لَنَسۡـَٔلَنَّ الۡمُرۡسَلِیۡنَ ۙ﴿۶﴾
تو یقینا ہم ان لوگوں سے ضرور پوچھیں گے جن کی طرف رسول بھیجے گئے اور یقینا ہم رسولوں سے (بھی) ضرور پوچھیں گے۔ En
تو جن لوگوں کی طرف پیغمبر بھیجے گئے ہم ان سے بھی پرسش کریں گے اور پیغمبروں سے بھی پوچھیں گے
En
پھر ہم ان لوگوں سے ضرور پوچھیں گے جن کے پاس پیغمبر بھیجے گئے تھے اور ہم پیغمبروں سے ضرور پوچھیں گے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿فَ٘لَ٘نَ٘سْئَلَنَّ۠ الَّذِیْنَ اُرْسِلَ اِلَیْهِمْ ہم ان قوموں سے ضرور پوچھیں گے جن کی طرف ہم نے انبیا و مرسلین کو مبعوث کیا تھا کہ انھوں نے اپنے رسولوں کو کیا جواب دیا تھا۔ ﴿وَیَوْمَ یُنَادِیْهِمْ فَیَقُوْلُ مَاذَاۤ اَجَبْتُمُ الْ٘مُرْسَلِیْ٘نَ (القصص: 28؍65) اور جس روز وہ (اللہ) انھیں پکار کر کہے گا کہ تم نے رسولوں کو کیا جواب دیا تھا؟ ﴿ وَ ٘لَ٘نَ٘سْئَلَنَّ۠ الْ٘مُرْسَلِیْ٘نَ اور ہم رسولوں سے بھی پوچھیں گے۔ یعنی ہم رسولوں سے ان کے رب کے پیغام کو پہنچانے کے بارے میں ضرور پوچھیں گے اور یہ بھی ضرور پوچھیں گے کہ ان کی امتوں نے کیا جواب دیا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

وقوله: {فَلَنَسْأَلَنَّ الذين أرسِل إليهم}؛ أي: لنسألن الأمم الذين أرسل الله إليهم المرسلين عما أجابوا [به] رسلهم، {وَيَوْمَ يُناديهم فَيَقولُ ماذا أجبتُمُ المرسلينَ ... } الآيات، {وَلَنَسْأَلَنَّ المرسلينَ}: عن تبليغهم لرسالات ربِّهم وعما أجابتهم به أممهم.