ترجمہ و تفسیر — سورۃ الأعراف (7) — آیت 6

فَلَنَسۡـَٔلَنَّ الَّذِیۡنَ اُرۡسِلَ اِلَیۡہِمۡ وَ لَنَسۡـَٔلَنَّ الۡمُرۡسَلِیۡنَ ۙ﴿۶﴾
تو یقینا ہم ان لوگوں سے ضرور پوچھیں گے جن کی طرف رسول بھیجے گئے اور یقینا ہم رسولوں سے (بھی) ضرور پوچھیں گے۔ En
تو جن لوگوں کی طرف پیغمبر بھیجے گئے ہم ان سے بھی پرسش کریں گے اور پیغمبروں سے بھی پوچھیں گے
En
پھر ہم ان لوگوں سے ضرور پوچھیں گے جن کے پاس پیغمبر بھیجے گئے تھے اور ہم پیغمبروں سے ضرور پوچھیں گے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 6) {فَلَنَسْـَٔلَنَّ۠ الَّذِيْنَ اُرْسِلَ اِلَيْهِمْ:} پچھلی آیت میں جس چیز سے ڈرایا گیا وہ دنیا کا عذاب تھا، اس آیت میں آخرت کے معاملات سے ڈرایا گیا ہے۔ (کبیر) یعنی ہم لوگوں سے یہ پوچھیں گے کہ تم نے ہمارے پیغمبروں کی دعوت کو کہاں تک قبول کیا، جیسا کہ سورۂ قصص آیت نمبر (۶۵) میں فرمایا: «وَ يَوْمَ يُنَادِيْهِمْ فَيَقُوْلُ مَا ذَاۤ اَجَبْتُمُ الْمُرْسَلِيْنَ» ‏‏‏‏ اور جس دن وہ انھیں آواز دے۔ پس کہنے لگا تم نے رسولوں کو کیا جواب دیا تھا اور پیغمبروں سے دریافت کریں گے کہ تم نے لوگوں تک ہمارا پیغام پہنچایا تھا یا نہیں؟ اور پہنچایا تھا تو انھوں نے کیا جواب دیا تھا؟ جیسا کہ سورۂ مائدہ آیت نمبر (۱۰۹) میں فرمایا: «يَوْمَ يَجْمَعُ اللّٰهُ الرُّسُلَ فَيَقُوْلُ مَا ذَاۤ اُجِبْتُمْ» جس دن اﷲ رسولوں کو جمع کرے گا پھر کہے گا تمھیں کیا جواب دیا گیا مقصود کفار کو ڈانٹنا اور ذلیل کرنا ہو گا۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

6۔ 1 امتوں سے پوچھا جائے گا کہ تمہارے پاس پیغمبر آئے تھے؟ انہوں نے تمہیں ہمارا پیغام پہنچایا تھا؟ وہ جواب دیں گے کہ ہاں! یا اللہ تیرے پیغمبر یقینا ہمار پاس آئے تھے لیکن ہماری قسمت پھوٹی تھی کہ ہم نے ان کی پروا نہیں کی اور پیغمبروں سے پوچھا جائے گا کہ تم نے ہمارا پیغام اپنی امتوں کو پہنچایا تھا؟ اور انہوں نے اس کے مقابلے میں کیا رویہ اختیار کیا؟ پیغمبر سوال کا جواب دیں گے۔ جس کی تفصیل قرآن مجید کے مختلف مقامات پر موجود ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

6۔ جن لوگوں کی طرف ہم نے رسول بھیجے تھے ہم ان سے بھی ضرور باز پرس کریں گے اور رسولوں سے بھی ضرور پوچھیں گے

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿فَ٘لَ٘نَ٘سْئَلَنَّ۠ الَّذِیْنَ اُرْسِلَ اِلَیْهِمْ ہم ان قوموں سے ضرور پوچھیں گے جن کی طرف ہم نے انبیا و مرسلین کو مبعوث کیا تھا کہ انھوں نے اپنے رسولوں کو کیا جواب دیا تھا۔ ﴿وَیَوْمَ یُنَادِیْهِمْ فَیَقُوْلُ مَاذَاۤ اَجَبْتُمُ الْ٘مُرْسَلِیْ٘نَ (القصص: 28؍65) اور جس روز وہ (اللہ) انھیں پکار کر کہے گا کہ تم نے رسولوں کو کیا جواب دیا تھا؟ ﴿ وَ ٘لَ٘نَ٘سْئَلَنَّ۠ الْ٘مُرْسَلِیْ٘نَ اور ہم رسولوں سے بھی پوچھیں گے۔ یعنی ہم رسولوں سے ان کے رب کے پیغام کو پہنچانے کے بارے میں ضرور پوچھیں گے اور یہ بھی ضرور پوچھیں گے کہ ان کی امتوں نے کیا جواب دیا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

وقوله: {فَلَنَسْأَلَنَّ الذين أرسِل إليهم}؛ أي: لنسألن الأمم الذين أرسل الله إليهم المرسلين عما أجابوا [به] رسلهم، {وَيَوْمَ يُناديهم فَيَقولُ ماذا أجبتُمُ المرسلينَ ... } الآيات، {وَلَنَسْأَلَنَّ المرسلينَ}: عن تبليغهم لرسالات ربِّهم وعما أجابتهم به أممهم.