تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الأعراف (7) — آیت 5

فَمَا کَانَ دَعۡوٰىہُمۡ اِذۡ جَآءَہُمۡ بَاۡسُنَاۤ اِلَّاۤ اَنۡ قَالُوۡۤا اِنَّا کُنَّا ظٰلِمِیۡنَ ﴿۵﴾
پھر ان کی پکار، جب ان پر ہمارا عذاب آیا، اس کے سوا کچھ نہ تھی کہ انھوں نے کہا یقینا ہم ہی ظالم تھے۔ En
تو جس وقت ان پر عذاب آتا تھا ان کے منہ سے یہی نکلتا تھا کہ (ہائے) ہم (ہائے) ہم (اپنے اوپر) ظلم کرتے رہے
En
سو جس وقت ان پر ہمارا عذاب آیا اس وقت ان کے منھ سے بجز اس کے اور کوئی بات نہ نکلی کہ واقعی ہم ﻇالم تھے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ فَمَا كَانَ دَعْوٰىهُمْ اِذْ جَآءَهُمْ بَ٘اْسُنَاۤ اِلَّاۤ اَنْ قَالُوْۤا اِنَّا كُنَّا ظٰ٘لِمِیْنَ جب ان کو ہمارے عذاب نے آلیا تو ان کی پکار اس کے سوا کچھ نہ تھی کہ بے شک ہم ظالم تھے۔جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ﴿ وَؔكَمْ قَصَمْنَا مِنْ قَ٘رْیَةٍ كَانَتْ ظَالِمَةً وَّاَنْشَاْنَا بَعْدَهَا قَوْمًا اٰخَرِیْنَ۰۰ فَلَمَّاۤ اَحَسُّوْا بَ٘اْسَنَاۤ اِذَا هُمْ مِّؔنْهَا یَرْؔكُ٘ضُوْنَؕ۰۰ لَا تَرْؔكُ٘ضُوْا وَارْجِعُوْۤا اِلٰى مَاۤ اُ٘تْرِفْتُمْ فِیْهِ وَمَسٰكِنِكُمْ لَعَلَّكُمْ تُ٘سْـَٔلُوْنَ۰۰ قَالُوْا یٰوَیْلَنَاۤ اِنَّا كُنَّا ظٰ٘لِمِیْنَ۰۰ فَمَا زَالَتْ تِّؔلْكَ دَعْوٰىهُمْ حَتّٰى جَعَلْنٰهُمْ حَصِیْدًا خٰمِدِیْنَ (الانبیاء: 21؍11-15) کتنی ہی بستیاں ہیں جن کو ہم نے ہلاک کر ڈالا جو ظالم تھیں اور ان کے بعد دوسرے لوگوں کو پیدا کیا۔ پس جب انھوں نے ہمارے عذاب کو دیکھا تو لگے اس سے بھاگنے۔ اب نہ بھاگو۔ ان نعمتوں کی طرف لوٹو جن کے تم مزے لوٹا کرتے تھے اور اپنے گھروں کی طرف لوٹ جاؤ۔ شاید تم سے پوچھا جائے، کہنے لگے ہائے ہماری ہلاکت! بے شک ہم ہی ظالم تھے۔ وہ اس طرح پکارتے رہے اور ہم نے انھیں کھیتی کی طرح کاٹ کر ڈھیر کر دیا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{فما كان دَعْواهم إذ جاءَهُم بأسُنا إلَّا أن قالوا إنا كنَّا ظالمينَ}؛ كما قال تعالى: {وكم قَصَمْنا من قريةٍ كانت ظالمةً وأنشأنا بعدَها قوماً آخرينَ. فلما أحسُّوا بأسَنا إذا هُم منها يركُضونَ. لا تركُضوا وارجِعوا إلى ما أُتْرِفْتُم فيه ومساكِنِكُم لعلَّكم تُسْألونَ. قالوا يا وَيْلنا إنَّا كنَّا ظالمينَ. فما زالتْ تلك دعواهُم حتَّى جَعَلْناهم حصيداً خامدينَ}.