اے آدم کی اولاد! کہیں شیطان تمھیں فتنے میں نہ ڈال دے، جس طرح اس نے تمھارے ماں باپ کو جنت سے نکال دیا، وہ دونوں سے ان کے لباس اتارتا تھا، تاکہ دونوں کو ان کی شرم گاہیں دکھائے، بے شک وہ اور اس کا قبیلہ تمھیں وہاں سے دیکھتے ہیں جہاں سے تم انھیں نہیں دیکھتے۔ بے شک ہم نے شیطانوں کو ان لوگوں کے دوست بنایا ہے جو ایمان نہیں رکھتے۔
En
اے نبی آدم (دیکھنا کہیں) شیطان تمہیں بہکا نہ دے جس طرح تمہارے ماں باپ کو (بہکا کر) بہشت سے نکلوا دیا اور ان سے ان کے کپڑے اتروا دیئے تاکہ ان کے ستر ان کو کھول کر دکھا دے۔ وہ اور اس کے بھائی تم کو ایسی جگہ سے دیکھتے رہے ہیں جہاں سے تم ان کو نہیں دیکھ سکتے ہم نے شیطانوں کو انہیں لوگوں کا رفیق کار بنایا ہے جو ایمان نہیں رکھتے
اے اوﻻد آدم! شیطان تم کو کسی خرابی میں نہ ڈال دے جیسا اس نے تمہارے ماں باپ کو جنت سے باہر کرا دیا ایسی حالت میں ان کا لباس بھی اتروا دیا تاکہ وه ان کو ان کی شرم گاہیں دکھائے۔ وه اور اس کا لشکر تم کو ایسے طور پر دیکھتا ہے کہ تم ان کو نہیں دیکھتے ہو۔ ہم نے شیطانوں کو ان ہی لوگوں کا دوست بنایا ہے جو ایمان نہیں ﻻتے
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
اللہ تبارک و تعالیٰ اولاد آدم کو ڈراتا ہے کہ شیطان کہیں تمھارے ساتھ بھی وہی کچھ نہ کرے جو اس نے تمھارے جد امجد آدم علیہ السلام کے ساتھ کیا تھا، چنانچہ فرماتا ہے ﴿یٰبَنِیْۤاٰدَمَلَایَفْتِنَنَّكُمُالشَّ٘یْطٰ٘نُ ﴾”اے آدم کی اولاد! نہ بہکائے تم کو شیطان“ یعنی وہ تمھارے سامنے گناہ اور معاصی کو آراستہ کر کے تمھیں ان کی طرف بلائے اور ترغیب دے اور تم اس کی اطاعت کر لو ﴿ كَمَاۤاَخْرَجَاَبَوَیْكُمْمِّنَالْجَنَّةِ ﴾”جیسے اس نے تمھارے ماں باپ کو جنت سے نکلوایا“ اور انھیں بلند ترین مقام سے اتار کرفرو ترین مقام پر پہنچا دیا۔ پس اس سے بچو وہ تمھارے ساتھ بھی وہی کچھ کرنا چاہتا ہے، وہ تمھیں گمراہ کرنے کی کوشش میں ذرہ بھر کوتاہی نہیں کرتا جب تک کہ تمھیں فتنے میں مبتلا نہ کر دے، اس لیے تم اس سے اپنا بچاؤ کرتے رہو اور اس کے مقابلے میں زرہ بکتر پہنے رکھو اور جن راستوں سے داخل ہو کر وہ تم پر شب خون مارتا ہے، ان راستوں سے غافل نہ رہو۔ ﴿اِنَّهٗ ﴾”بے شک وہ“ دائمی طور پر تمھاری نگرانی کرتا ہے ﴿ یَرٰىكُمْهُوَوَقَبِیْلُهٗ ﴾”وہ اور اس کے قبیلے کے شیاطین جن تمھیں اس مقام سے دیکھتے ہیں “﴿ مِنْحَیْثُلَاتَرَوْنَهُمْ١ؕاِنَّاجَعَلْنَاالشَّیٰطِیْنَاَوْلِیَآءَؔلِلَّذِیْنَلَایُؤْمِنُوْنَ﴾”جہاں سے تم ان کو نہیں دیکھ سکتے۔ ہم نے شیاطین کو ان لوگوں کا دوست بنا دیا جو ایمان نہیں لاتے۔“ پس عدم ایمان ہی انسان اور شیطان کے درمیان دوستی اور موالات کے عقد کا موجب ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿ اِنَّهٗلَ٘یْسَلَهٗسُلْطٰ٘نٌعَلَىالَّذِیْنَاٰمَنُوْاوَعَلٰىرَبِّهِمْیَتَوَؔكَّلُوْنَ۰۰اِنَّمَاسُلْطٰنُهٗعَلَىالَّذِیْنَیَتَوَلَّوْنَهٗوَالَّذِیْنَهُمْبِهٖمُشْ٘رِكُوْنَ۰۰ ﴾ (النحل: 16؍99-100) ”جو مومن ہیں اور اپنے رب پر بھروسہ کرتے ہیں ان پر اس کا کوئی اختیار نہیں۔ اس کا اختیار تو ان لوگوں پر ہے جو اس کو اپنا دوست بناتے ہیں اور اس کے سبب سے اللہ کے ساتھ شرک کرتے ہیں۔“
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
يقول تعالى محذِّراً لبني آدم أن يفعل بهم الشيطان كما فعل بأبيهم: {يا بني آدم لا يَفْتِنَنَّكُمُ الشيطانُ}: بأن يزيِّن لكم العصيانَ ويدعوكم إليه ويرغِّبكم فيه فتنقادون له، {كما أخرجَ أبَوَيْكم من الجنة}: وأنزلهما من المحلِّ العالي إلى أنزل منه؛ فأنتم يريد أن يفعل بكم كذلك ولا يألو جهده عنكم حتى يفتِنَكم إن استطاع؛ فعليكم أن تجعلوا الحَذَرَ منه في بالكم، وأن تَلْبَسوا لامةَ الحرب بينَكم وبينه، وأن لا تغفلوا عن المواضع التي يدخل منها إليكم. فإنَّه يراقِبُكم على الدوام، و {يراكم هو وقَبيلُهُ}: من شياطين الجن {من حيث لا تَرَوْنَهم إنا جعلنا الشياطينَ أولياءَ للذين لا يؤمنونَ}: فعدمُ الإيمان هو الموجبُ لعقد الولاية بين الإنسان والشيطان. {إنَّه ليسَ له سلطانٌ على الذين آمنوا وَعلى ربِّهِمْ يَتَوَكَّلونَ. إنَّما سلطانُهُ على الذين يَتَوَلَّوْنَهُ والذين هم بِهِ مشركونَ}.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔