اور جب وہ کوئی بے حیائی کرتے ہیں تو کہتے ہیں ہم نے اپنے باپ دادا کو اس پر پایا اور اللہ نے ہمیں اس کا حکم دیا ہے۔ کہہ دے بے شک اللہ بے حیائی کا حکم نہیں دیتا، کیا تم اللہ کے ذمے وہ بات لگاتے ہو جو تم نہیں جانتے۔
En
اور جب کوئی بے حیائی کا کام کرتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم نے اپنے بزرگوں کو اسی طرح کرتے دیکھا ہے اور خدا نے بھی ہم کو یہی حکم دیا ہے۔ کہہ دو خدا بےحیائی کے کام کرنے کا ہرگز حکم نہیں دیتا۔ بھلا تم خدا کی نسبت ایسی بات کیوں کہتے ہو جس کا تمہیں علم نہیں
اور وه لوگ جب کوئی فحش کام کرتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم نے اپنے باپ دادا کو اسی طریق پر پایا ہے اور اللہ نے بھی ہم کو یہی بتایا ہے۔ آپ کہہ دیجیئے کہ اللہ تعالیٰ فحش بات کی تعلیم نہیں دیتا، کیا اللہ کے ذمہ ایسی بات لگاتے ہو جس کی تم سند نہیں رکھتے؟
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
اللہ تبارک و تعالیٰ مشرکین کا حال بیان کرتا ہے جو گناہوں کا ارتکاب کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ انھیں اللہ تعالیٰ نے ایسا کرنے کا حکم دیا ہے۔ ﴿وَاِذَافَعَلُوْافَاحِشَةً ﴾”جب وہ کوئی فحش کام کرتے ہیں۔“ فحش سے مراد ہر وہ کام ہے جو برا اور انتہائی قبیح ہو۔ عریاں ہو کر بیت اللہ کا طواف کرنا بھی اسی زمرے میں آتا ہے۔ ﴿قَالُوْاوَجَدْنَاعَلَیْهَاۤاٰبَآءَنَا ﴾”کہتے ہیں ہم نے اس پر اپنے باپ دادا کو پایا ہے“ اور وہ اس بارے میں سچے ہیں ﴿وَاللّٰہُاَمَرَنَابِھَا﴾”اور اللہ نے ہمیں اس کا حکم دیا ہے“ وہ اس فحش کام کو اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کرنے میں جھوٹ بولتے ہیں۔ بنا بریں اللہ تعالیٰ نے ان کے اس قول کی تردید کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ قُ٘لْاِنَّاللّٰهَلَایَ٘اْمُرُبِالْفَحْشَآءِ﴾”کہہ دیجیے اللہ بے حیائی کے کام کرنے کا ہرگز حکم نہیں دیتا۔“ یعنی یہ بات اللہ تعالیٰ کی حکمت اور کمال کے لائق نہیں کہ وہ اپنے بندوں کو فحش کاموں کا حکم دے، اللہ نے اس فحش کام کا حکم دیا ہے، جس کا ارتکاب یہ مشرک کرتے ہیں نہ کسی اور فحش کام کا۔ ﴿اَتَقُوْلُوْنَعَلَىاللّٰهِمَالَاتَعْلَمُوْنَ ﴾”کیا تم اللہ کے ذمے وہ باتیں لگاتے ہو جو تم کو معلوم نہیں “ اور اس سے بڑا اور کون سا بہتان ہو سکتا ہے؟
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
يقول تعالى مبيِّناً لقبح حال المشركين الذين يفعلون الذنوب وينسبون أن اللهَ أمرهم بها: {وإذا فعلوا فاحشةً}: وهي كل ما يُستفحش ويُستقبح، ومن ذلك طوافهم بالبيت عراة، {قالوا وَجَدْنا عليها آباءَنا}: وصَدَقوا في هذا، {واللهُ أمَرَنا بها}: وكذبوا في هذا، ولهذا ردَّ الله عليهم هذه النسبة، فقال: {قل إنَّ الله لا يأمرُ بالفحشاء}؛ أي: لا يليق بكماله وحكمته أن يأمر عبادَه بتعاطي الفواحش، لا هذا الذي يفعله المشركون ولا غيره، {أتقولونَ على الله ما لا تَعْلَمونَ}: وأيُّ افتراء أعظم من هذا؟
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔