تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ {اِنَّهٗ يَرٰىكُمْ هُوَ وَ قَبِيْلُهٗ ……:} یعنی ایسے دشمن سے تو بہت زیادہ محتاط اور چوکنا رہنا چاہیے جو ہمیں دیکھے مگرہم اسے دیکھ نہ پائیں۔ اس آیت سے بعض اہل علم نے یہ استدلال کیا ہے کہ جنوں کو دیکھنا ممکن نہیں ہے، مگر یہ استدلال صحیح نہیں ہے، کیونکہ اگرچہ اکثر ایسا ہی ہوتا ہے کہ وہ اور اس کا قبیلہ ہمیں دیکھ رہے ہوتے ہیں جبکہ ہم انھیں نہیں دیکھتے ہوتے، مگر اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ ان کا دکھائی دینا کسی وقت بھی ممکن نہیں۔ یہ {” قَضِيَّةٌ مُطْلَقَةٌ لَا دَائِمَةٌ “} ہے، لہٰذا صحیح یہی ہے کہ جنوں کو دیکھنا ممکن ہے۔ احادیث میں ہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے جنوں کو دیکھا ہے۔ (فتح القدیر) اور زکوٰۃِ رمضان کی نگرانی کے قصے میں مذکور ہے کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ مسلسل تین راتیں ایک جن کو پکڑتے رہے۔ [بخاری: ۲۳۱۱۱] اور صحیح مسلم میں ہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آج رات میری نماز قطع کرنے کے لیے میرے پاس ایک سرکش جن آ گیا، اگر میرے بھائی سلیمان(علیہ السلام) کی دعا نہ ہوتی تو میں اسے پکڑ کر ستون سے باندھ دیتا اور صبح کو مدینہ کے بچے اس سے کھیلتے۔“ [مسلم: ۵۴۱۔ بخاری: ۴۶۱] سلیمان علیہ السلام کے پاس تو باقاعدہ جنوں کی قوم تھی۔ [النمل: ۱۷]
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
جیسے فرمان ہے «اَفَتَتَّخِذُوْنَهٗ وَذُرِّيَّتَهٗٓ اَوْلِيَاءَ مِنْ دُوْنِيْ وَهُمْ لَكُمْ عَدُوٌّ بِئْسَ للظّٰلِمِيْنَ بَدَلً» ۱؎ یعنی [18-الكهف:50] ’ کیا تم ابلیس اور اس کی قوم کو اپنا دوست بناتے ہو؟ مجھے چھوڑ کر؟ حالانکہ وہ تو تمہارا دشمن ہے۔ ظالموں کا بہت ہی برا بدلہ ہے۔ ‘
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
يقول تعالى محذِّراً لبني آدم أن يفعل بهم الشيطان كما فعل بأبيهم: {يا بني آدم لا يَفْتِنَنَّكُمُ الشيطانُ}: بأن يزيِّن لكم العصيانَ ويدعوكم إليه ويرغِّبكم فيه فتنقادون له، {كما أخرجَ أبَوَيْكم من الجنة}: وأنزلهما من المحلِّ العالي إلى أنزل منه؛ فأنتم يريد أن يفعل بكم كذلك ولا يألو جهده عنكم حتى يفتِنَكم إن استطاع؛ فعليكم أن تجعلوا الحَذَرَ منه في بالكم، وأن تَلْبَسوا لامةَ الحرب بينَكم وبينه، وأن لا تغفلوا عن المواضع التي يدخل منها إليكم. فإنَّه يراقِبُكم على الدوام، و {يراكم هو وقَبيلُهُ}: من شياطين الجن {من حيث لا تَرَوْنَهم إنا جعلنا الشياطينَ أولياءَ للذين لا يؤمنونَ}: فعدمُ الإيمان هو الموجبُ لعقد الولاية بين الإنسان والشيطان. {إنَّه ليسَ له سلطانٌ على الذين آمنوا وَعلى ربِّهِمْ يَتَوَكَّلونَ. إنَّما سلطانُهُ على الذين يَتَوَلَّوْنَهُ والذين هم بِهِ مشركونَ}.