اے آدم کی اولاد! بے شک ہم نے تم پر لباس اتارا ہے، جو تمھاری شرم گاہوں کو چھپاتا ہے اور زینت بھی اور تقویٰ کالباس! وہ سب سے بہتر ہے۔ یہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہے، تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں۔
En
اے نبی آدم ہم نے تم پر پوشاک اتاری کہ تمہارا ستر ڈھانکے اور (تمہارے بدن کو) زینت (دے) اور (جو) پرہیزگاری کا لباس (ہے) وہ سب سے اچھا ہے۔ یہ خدا کی نشانیاں ہیں تاکہ لوگ نصحیت پکڑ یں
اے آدم (علیہ السلام) کی اوﻻد ہم نے تمہارے لئے لباس پیدا کیا جو تمہاری شرم گاہوں کو بھی چھپاتا ہے اور موجب زینت بھی ہے اور تقوے کا لباس، یہ اس سے بڑھ کر ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ہے تاکہ یہ لوگ یاد رکھیں
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
پھر اللہ تعالیٰ نے ان پر اپنے اس احسان کا ذکر فرمایا کہ اس نے ان کو ضروری لباس مہیا فرمایا۔ وہ لباس جس سے خوبصورتی مقصود ہے۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ نے انھیں تمام اشیا، مثلاً: کھانا پینا، سواری اور بیویاں وغیرہ عطا کیں۔ اس کی تکمیل کی خاطر اللہ تعالیٰ نے دیگر ضروریات مہیا کیں اور ان پر واضح کر دیا کہ یہ سب کچھ بالذات مقصود نہیں ہے بلکہ یہ لباس اللہ تعالیٰ نے صرف اس لیے نازل کیا ہے تاکہ اللہ تعالیٰ کی عبادت اور اطاعت میں ان کا مددگار ثابت ہو۔ بنا بریں فرمایا: ﴿ وَلِبَاسُالتَّقْوٰى ١ۙ ذٰلِكَخَیْرٌ﴾”اور جو تقویٰ کا لباس ہے وہ سب سے اچھا ہے۔“ یعنی تقویٰ کا لباس، حسی لباس سے بہتر ہے۔ کیونکہ لباس تقویٰ بندے کے ساتھ ہمیشہ رہتا ہے کبھی پرانا اور بوسیدہ نہیں ہوتا اور لباس تقویٰ قلب و روح کا جمال ہے۔ رہا حسی اور ظاہری لباس تو اس کی انتہا یہ ہے کہ یہ ایک محدود وقت کے لیے ظاہری ستر کو ڈھانپتا ہے یا انسان کے لیے خوبصورتی کا باعث بنتا ہے۔ اس سے بڑھ کر اس کا اور کوئی فائدہ نہیں۔ نیز فرض کیا یہ لباس موجود نہیں تب زیادہ سے زیادہ یہ ہوگا کہ اس کا ظاہری ستر منکشف ہو جائے گا جس کا اضطراری حالت میں منکشف ہونا نقصان دہ نہیں اور اگر لباس تقویٰ معدوم ہو جائے تو باطنی ستر کھل جائے گا اور اسے رسوائی اور فضیحت کا سامنا کرنا پڑے گا۔
﴿ذٰلِكَمِنْاٰیٰتِاللّٰهِلَعَلَّهُمْیَذَّكَّـرُوْنَ﴾”یہ نشانیاں ہیں اللہ کی قدرت کی تاکہ وہ غور کریں “ یعنی یہ مذکورہ لباس جس سے تم ایسی چیزوں کو یاد کرتے ہو جو تمھیں نفع و نقصان دیتی ہیں اور اس ظاہری لباس سے تم اپنے باطن کی ستر پوشی میں مدد لیتے ہو۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
ثم امتنَّ عليهم بما يسَّر لهم من اللباس الضروري واللباس الذي المقصود منه الجمال، وهكذا سائر الأشياء كالطعام والشراب والمراكب والمناكح، ونحوها قد يسر الله للعباد ضروريَّها ومكمِّل ذلك، وبيَّن لهم أن هذا ليس مقصوداً بالذات، وإنَّما أنزله الله ليكون معونةً لهم على عبادته وطاعته، ولهذا قال: {ولباسُ التَّقوى ذلك خيرٌ}: من اللباس الحسيِّ؛ فإن لباس التقوى يستمرُّ مع العبد ولا يبلى ولا يبيد، وهو جمال القلب والروح، وأما اللباس الظاهريُّ؛ فغايتُه أن يستُر العورة الظاهرة في وقت من الأوقات، أو يكون جمالاً للإنسان، وليس وراء ذلك منه نفع. وأيضاً؛ فبتقدير عدم هذا اللباس تنكشف عورتُهُ الظاهرةُ التي لا يضرُّه كشفُها مع الضرورة، وأما بتقدير عدم لباس التقوى؛ فإنها تنكشف عورته الباطنة، وينال الخزيَ والفضيحة. وقوله: {ذلك من آيات الله لعلَّهم يذَّكَّرونَ}؛ أي: ذلك المذكور لكم من اللباس مما تذكرون به ما ينفعُكم، ويضرُّكم، وتستعينون باللباس الظاهر على الباطن.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔