تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الأعراف (7) — آیت 113

وَ جَآءَ السَّحَرَۃُ فِرۡعَوۡنَ قَالُوۡۤا اِنَّ لَنَا لَاَجۡرًا اِنۡ کُنَّا نَحۡنُ الۡغٰلِبِیۡنَ ﴿۱۱۳﴾
اور جادوگر فرعون کے پاس آئے، انھوں نے کہا یقینا ہمارے لیے ضرور کچھ صلہ ہوگا، اگر ہم ہی غالب ہوئے۔ En
(چنانچہ ایسا ہی کیا گیا) اور جادوگر فرعون کے پاس آپہنچے اور کہنے لگے کہ اگر ہم جیت گئے تو ہمیں صلہ عطا کیا جائے
En
اور وه جادوگر فرعون کے پاس حاضر ہوئے، کہنے لگے کہ اگر ہم غالب آئے تو ہم کو کوئی بڑا صلہ ملے گا؟ En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ وَجَآءَ السَّحَرَةُ فِرْعَوْنَ اور جادوگر فرعون کے پاس آپہنچے۔ جادوگر غالب آنے کی صورت میں انعام کا مطالبہ کرتے ہوئے فرعون کے پاس آئے اور کہنے لگے ﴿ اِنَّ لَنَا لَاَجْرًا اِنْ كُنَّا نَحْنُ الْغٰلِبِیْنَ اگر ہم مقابلے میں کامیاب ہوگئے تو ہمیں انعام دیا جائے گا؟
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

وقال هنا: {وجاء السحرةُ فرعونَ}: طالبين منه الجزاء إن غلبوا، فقالوا: {إنَّ لنا لأجراً إن كُنَّا نحنُ الغالبينَ}.