تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الأعراف (7) — آیت 114

قَالَ نَعَمۡ وَ اِنَّکُمۡ لَمِنَ الۡمُقَرَّبِیۡنَ ﴿۱۱۴﴾
کہا ہاں! اور یقینا تم ضرور مقرب لوگوں سے ہو گے۔ En
(فرعون نے) کہا ہاں (ضرور) اور (اس کے علاوہ) تم مقربوں میں داخل کرلیے جاؤ گے
En
فرعون نے کہا کہ ہاں اور تم مقرب لوگوں میں داخل ہو جاؤ گے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿قَالَ فرعون نے کہا ﴿نَعَمْ ہاں تمھیں انعام سے نوازا جائے گا ﴿ وَاِنَّـكُمْ لَ٘مِنَ الْ٘مُقَرَّبِیْنَ۠ (اور اس پر مستزاد یہ کہ) تم میرے مقربین میں سے ہو گے۔ فرعون نے جادوگروں کو انعام و اکرام دینے، ان کو اپنے مقربین میں شامل کرنے اور ان کی قدر و منزلت بڑھانے کا وعدہ کر لیا تاکہ وہ موسیٰ علیہ السلام کے مقابلے میں اپنی پوری طاقت صرف کر دیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

فقالَ فرعونُ: {نعم}: لكم أجر، {وإنَّكم لمن المقرَّبين}: فوعَدَهم الأجر والتقريب وعلو المنزلة عنده؛ ليجتهدوا ويبذُلوا، وسعهم وطاقتهم في مغالبة موسى.