تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿قَالَ ﴾ فرعون نے کہا ﴿نَعَمْ﴾ ہاں تمھیں انعام سے نوازا جائے گا ﴿ وَاِنَّـكُمْلَ٘مِنَالْ٘مُقَرَّبِیْنَ۠ ﴾”(اور اس پر مستزاد یہ کہ) تم میرے مقربین میں سے ہو گے۔“ فرعون نے جادوگروں کو انعام و اکرام دینے، ان کو اپنے مقربین میں شامل کرنے اور ان کی قدر و منزلت بڑھانے کا وعدہ کر لیا تاکہ وہ موسیٰ علیہ السلام کے مقابلے میں اپنی پوری طاقت صرف کر دیں۔