(آیت 113){ قَالُوْۤااِنَّلَنَالَاَجْرًا …:} جادوگروں کے سامنے کوئی بلند مقصد نہ تھا، بلکہ محض پیشہ ورانہ کمائی تھی، اس لیے انھوں نے پہلے فرعون سے بطور سوال اس کا تقاضا کیا۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
113۔ چنانچہ جادوگر فرعون کے پاس آگئے اور کہنے لگے: ”اگر ہم غالب رہے تو ہمیں کچھ صلہ بھی ملے گا؟“
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
باب
جادوگروں نے پہلے ہی فرعون سے قول و قرار لے لیا تاکہ محنت خالی نہ جائے اور اگر ہم جیت جائیں تو خالی ہاتھ نہ رہ جائیں۔ فرعون نے وعدہ کیا کہ منہ مانگا انعام اور ہمیشہ کے لئے خاص درباریوں میں داخلہ دوں گا۔ جادوگر یہ قول و قرار لے کر میدان میں اتر آئے۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿ وَجَآءَالسَّحَرَةُفِرْعَوْنَ ﴾”اور جادوگر فرعون کے پاس آپہنچے۔“ جادوگر غالب آنے کی صورت میں انعام کا مطالبہ کرتے ہوئے فرعون کے پاس آئے اور کہنے لگے ﴿ اِنَّلَنَالَاَجْرًااِنْكُنَّانَحْنُالْغٰلِبِیْنَ ﴾”اگر ہم مقابلے میں کامیاب ہوگئے تو ہمیں انعام دیا جائے گا؟“
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
وقال هنا: {وجاء السحرةُ فرعونَ}: طالبين منه الجزاء إن غلبوا، فقالوا: {إنَّ لنا لأجراً إن كُنَّا نحنُ الغالبينَ}.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔