تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ القلم (68) — آیت 14

اَنۡ کَانَ ذَا مَالٍ وَّ بَنِیۡنَ ﴿ؕ۱۴﴾
اس لیے کہ وہ مال اور بیٹوں والا رہا ہے۔ En
اس سبب سے کہ مال اور بیٹے رکھتا ہے
En
اس کی سرکشی صرف اس لیے ہے کہ وه مال واﻻ اور بیٹوں واﻻ ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

ان تمام آیات کریمہ کا حاصل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہر اس شخص کی اطاعت سے روکا ہے جو نہایت کثرت سے قسمیں کھانے والا، سخت جھوٹا، خسیس النفس، نہایت بداخلاق، خاص طور پر وہ ایسے برے اخلاق کا مالک ہے جو خود پسند، مخلوق اور حق کے مقابلے میں تکبر و استکبار، غیبت چغلی اور طعنہ زنی کے ذریعے سے لوگوں سے حقارت کا رویہ رکھنے اور گناہوں کی کثرت کے متضمن ہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

وحاصل هذا أنَّ الله تعالى نهى عن طاعة كلِّ حلافٍ كذابٍ خسيس النفس سيِّئِ الأخلاق، خصوصاً الأخلاق المتضمِّنة للإعجاب بالنفس، والتكبُّر على الحقِّ وعلى الخَلْق، والاحتقار للناس بالغيبة والنَّميمة، والطعن فيهم، وكثرة المعاصي.