(آیت 14) {اَنْكَانَذَامَالٍوَّبَنِيْنَ: ”اَنْكَانَ“} سے پہلے لام محذوف ہے، یعنی {”لِأَنْكَانَ“} یہ {”لَاتُطِعْ“} کے متعلق ہے، یعنی محض اس لیے آپ اس کا کہنا نہ مانیں کہ وہ مال اور بیٹوں والا ہے۔ دوسرا معنی یہ ہے کہ وہ ہماری آیات کو پہلے لوگوں کی کہانیاں کہہ کر محض اس لیے جھٹلاتا ہے کہ وہ مال اور بیٹوں والا ہے، اگر ہم اسے مال اور بیٹے عطا نہ کرتے تو ایسا تکبر اور ایسی سرکشی اختیار نہ کرتا۔ اس صورت میں یہ بعد والی آیت سے متعلق ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
14۔ 1 یعنی مذکورہ اخلاقی قباحتوں کا ارتکاب اس لئے کرتا ہے کہ اللہ نے اسے مال اور اولاد کی نعمتوں سے نوازا ہے یعنی وہ شکر کی بجائے کفران نعمت کرتا ہے، یعنی جس شخص کے اندر یہ خرابیاں ہوں، اس کی بات صرف اس لئے مان لی جائے کہ وہ مال اور اولاد رکھتا ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
14۔ اس بنا پر کہ وہ مالدار ہے [12] اور بیٹوں والا ہے
[12] یعنی ان تمام تر قباحتوں کے باوجود کیا صرف اس لئے اس کی بات مان لی جائے کہ وہ خاصا مال دار اور صاحب اولاد ہے۔ صاحب مال اور اولاد ہونا کوئی ایسی صفات نہیں کہ ایسے شخص کی اطاعت کی جائے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
ان تمام آیات کریمہ کا حاصل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہر اس شخص کی اطاعت سے روکا ہے جو نہایت کثرت سے قسمیں کھانے والا، سخت جھوٹا، خسیس النفس، نہایت بداخلاق، خاص طور پر وہ ایسے برے اخلاق کا مالک ہے جو خود پسند، مخلوق اور حق کے مقابلے میں تکبر و استکبار، غیبت چغلی اور طعنہ زنی کے ذریعے سے لوگوں سے حقارت کا رویہ رکھنے اور گناہوں کی کثرت کے متضمن ہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
وحاصل هذا أنَّ الله تعالى نهى عن طاعة كلِّ حلافٍ كذابٍ خسيس النفس سيِّئِ الأخلاق، خصوصاً الأخلاق المتضمِّنة للإعجاب بالنفس، والتكبُّر على الحقِّ وعلى الخَلْق، والاحتقار للناس بالغيبة والنَّميمة، والطعن فيهم، وكثرة المعاصي.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔