تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
یہ آیات کریمہ....بعض مشرکین کے بارے میں نازل ہوئیں، مثلاً: ولید بن مغیرہ وغیرہ کیونکہ اس کے بارے میں فرمایا: ﴿ اَنْكَانَذَامَالٍوَّبَنِیْنَؕ۰۰اِذَاتُ٘تْ٘لٰىعَلَیْهِاٰیٰتُنَاقَالَاَسَاطِیْرُالْاَوَّلِیْ٘نَ﴾ کیونکہ اپنے مال اور اولاد کی وجہ سے اس نے سرکشی اختیار کی، حق کے مقابلے میں تکبر و استکبار کا مظاہرہ کیا، جب حق اس کے پاس آیا تو اس کو ٹھکرا دیا اور اسے پہلوں کے قصے کہانیاں قرار دیاجن میں سچ اور جھوٹ دونوں ممکن ہیں ...لیکن یہ آیات کریمہ ہر اس شخص کے بارے میں نازل ہوئی ہیں جو اس وصف سے متصف ہو کیونکہ قرآن کریم تمام مخلوق کی ہدایت کے لیے نازل ہوا اور اس میں امت کے اولین و آخرین سب داخل ہیں۔بسا اوقات بعض آیات کسی شخص کے سبب سے نازل ہوتی ہیں تاکہ ان سے عام قاعدہ واضح ہو جائے اور عام قضیوں میں داخل جزئیات کی مثالوں کی معرفت حاصل ہو جائے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
وهذه الآياتُ وإن كانت نزلتْ في بعض المشركين؛ كالوليد بن المغيرة أو غيره ؛ لقوله عنه: {أن كان ذا مال وبنينَ. إذا تُتْلى عليه آياتُنا قال أساطيرُ الأولينَ}؛ أي: لأجل كثرة ماله وولده طغى واستكبر عن الحقِّ ودَفَعه حين جاءه وجعله من جملة أساطير الأولين التي يمكنُ صدقُها وكذبُها؛ فإنَّها عامةٌ في كلِّ من اتَّصف بهذا الوصف؛ لأنَّ القرآن نزل لهداية الخلق كلِّهم، ويدخل فيه أول الأمة وآخرهم، وربَّما نزل بعض الآياتِ في سببٍ أو [في] شخصٍ من الأشخاص، لتتَّضح به القاعدةُ العامةُ، ويُعْرَفَ به أمثال الجزئيات الداخلة في القضايا العامَّة.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔