تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿عُتُلٍّۭؔبَعْدَذٰلِكَ ﴾ یعنی درشت خو، بدخلق اور سخت طبیعت رکھنے والا جو حق کے سامنے سر تسلیم خم نہیں کرتا۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ ﴿زَنِیْمٍ﴾”بدذات ہے“ یعنی مجہول النسب جس کی کوئی اصل ہونہ ایسا مادہ کہ جس سے کوئی بھلائی منتج ہوتی ہے بلکہ اس کے اخلاق بدترین اخلاق ہیں۔ اس سے فلاح کی امید نہیں اور اس میں شر کی علامت ہے جس سے وہ پہچانا جاتا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{عُتُلٍّ بعد ذلك}؛ أي: غليظٍ شرس الخلق، قاسٍ، غير منقادٍ للحقِّ. {زنيمٍ}؛ أي: دعيٍّ ليس له أصلٌ ولا مادةٌ ينتج منها الخير، بل أخلاقه أقبح الأخلاق، ولا يرجى منه فلاحٌ. له زِنْمَةٌ؛ أي: علامةٌ في الشرِّ يعرف بها.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔